اٹلی کے علاقے ٹسکنی میں واقع ایک تاریخی اور معروف وائنری 'مارکیزی انتینوری' میں چوری کی ایک بڑی واردات پیش آئی ہے، جس میں تقریباً پچاس لاکھ یورو یعنی ایک ارب پچپن کروڑ پاکستانی روپے سے زائد مالیت کی شراب چوری کر لی گئی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واردات میں کم از کم سات نقاب پوش افراد ملوث تھے، جنہوں نے انتہائی مہارت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کو انجام دیا۔ چوروں نے سب سے پہلے گودام کے الارم سسٹم کو غیر فعال کیا اور نگرانی کے لیے نصب کیمروں کو بند کر دیا۔
سکیورٹی نظام کو ناکارہ بنانے کے بعد ملزمان نے کمپنی کی فورک لفٹ مشینوں کا استعمال کرتے ہوئے نہایت اطمینان سے دو بڑے ٹرکوں میں شراب کی تیس ہزار بوتلیں لوڈ کیں۔ یہ بوتلیں بیرونِ ملک برآمد کے لیے تیار کی گئی تھیں اور انہیں گودام سے نکال کر فرار ہو گئے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رینزو کوٹاریلا نے اطالوی اخبار کو دیے گئے بیان میں اس واقعے کو اٹلی میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی چوری قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مالیت اور اتنے بڑے پیمانے پر چوری کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
چوری ہونے والی شراب میں ٹگنانیلو، سولائیا اور گواڈو ال تاسّو جیسے مہنگے اور معروف برانڈز شامل ہیں۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ ان میں سے ہر بوتل کی قیمت 150 سے 500 یورو کے درمیان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوروں کو شراب کے معیار اور قیمت کی مکمل معلومات تھیں۔
رینزو کوٹاریلا نے مزید کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ملزمان کو گودام کے اندرونی معاملات اور سکیورٹی انتظامات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ٹسکنی کی سڑکوں پر موجود کیمروں کی مدد سے چوروں کا سراغ لگا لیں گے۔
کمپنی انتظامیہ کو اس واردات کا علم پیر کی صبح ہوا جب عملہ معمول کے مطابق کام پر پہنچا۔ تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، تاہم اطالوی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
مارکیزی انتینوری ایک قدیم کمپنی ہے جس کی بنیاد 1385 میں رکھی گئی تھی۔ یہ کمپنی دنیا کے 170 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور گزشتہ برس اس کی آمدنی 26 کروڑ 30 لاکھ یورو کے قریب رہی تھی۔
اٹلی میں شراب کی چوری کے واقعات میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل شمالی علاقے پیڈمونٹ میں بھی شراب کی چوری کی دو بڑی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں لاکھوں یورو مالیت کی بوتلیں چوری کی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں مہنگی شراب کو دنیا بھر کی مارکیٹ میں فروخت کرنا ایک مشکل کام ہے، کیونکہ ان بوتلوں کی شناخت اور قیمت کے باعث یہ آسانی سے کسی کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ چوری کسی منظم گروہ کی کارروائی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث ہے۔ سڑکوں پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
اس واردات نے اٹلی کی شراب کی صنعت میں سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف برانڈز کی حفاظت کے لیے اب کمپنیوں کی جانب سے مزید سخت اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فی الحال کمپنی کی جانب سے کسی بھی قسم کے نقصان کے ازالے کے لیے انشورنس اور قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملیں تو فوری اطلاع دیں۔





اپنی رائے دیں