عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان سے متعلق رپورٹ میں خطے کی معاشی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت کئی ممالک میں غربت کی شرح میں اضافہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن پر گزارا کرنے والے افراد کی شرح 20 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی آبادی اسی سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، مذکورہ خطے میں روزانہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے افراد کا تقریباً 48 فیصد حصہ پاکستان میں موجود ہے۔ یہ صورتحال ملک میں قوتِ خرید میں کمی اور معاشی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ میں غذائی عدم تحفظ کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان، لبنان اور پاکستان جیسے ممالک میں خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے نمایاں دباؤ موجود ہے، جس سے نچلا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ 2026ء کے اختتام تک ایل نینو جیسی صورتحال خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان مون سون کے نظام میں تبدیلیوں کے باعث اس خطرے سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی معاشی شرحِ نمو کے حوالے سے رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران یہ 3.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری اور سرکاری اداروں میں شفافیت لانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، پاکستان کو پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات معیشت کو درپیش بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیے گئے ہیں۔
ملک میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے رپورٹ اور دیگر ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر بنیادی اشیاء کی مہنگائی عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ معاشی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں درپیش چیلنجز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں درپیش مسائل ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق 2026 میں ہیضے، اسہال، ملیریا اور فلو جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے صحت کے شعبے میں بہتری اور فنڈز کی فراہمی ناگزیر ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی پاکستان کی معیشت کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم عالمی اداروں کی رپورٹس معیشت کو درپیش طویل مدتی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عوام کی معاشی بہتری کے لیے ان اصلاحات کا ثمر ملنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔





اپنی رائے دیں