خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ 11 اکتوبر 2026 کو باضابطہ طور پر جمع کروا دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے فیصلے کی وجوہات تفصیل سے بیان کی ہیں۔
شاہ فیصل الیاس نے اپنے استعفے کا بنیادی سبب وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اقدامات کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صوبائی خودمختاری اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔
اپنے تحریری استعفے میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ان کے پیشہ ورانہ ضمیر اور آئین کی پاسداری کے حلف کا تقاضا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین پاکستان 1973 ملک کا اعلیٰ ترین قانون ہے جس کی پاسداری لازمی ہے۔
شاہ فیصل الیاس کے مطابق، وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات آئینی قانونی حیثیت اور وفاقی ڈھانچے کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ریاستی اداروں کو آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر ہی کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ غیر معمولی آئینی اقدامات کا استعمال نمائندہ حکومت کو نظر انداز کرنے یا جمہوری مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک آئینی عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی نظام کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔
شاہ فیصل الیاس نے اپنے استعفے کو اصولی اختلاف کا اظہار قرار دیا ہے۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کے استعفے کو آئینی بنیادوں پر احتجاج کے طور پر ریکارڈ کیا جائے اور قانون کے مطابق اسے قبول کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں بھی قانونی پیشے، عدالتی آزادی اور قانون کی بالادستی کے دفاع کے لیے پرعزم رہیں گے۔ ان کا یہ اقدام صوبائی بیوروکریسی اور قانونی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں، یہ استعفیٰ ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شاہ فیصل الیاس نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ سخت فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شاہ فیصل الیاس کا استعفیٰ اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
شاہ فیصل الیاس نے اپنے خط میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئینی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق، قانون کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کا تحفظ ہر شہری اور عہدیدار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اپنے استعفے میں کسی بھی قسم کی ذاتی رنجش کے بجائے اصولی موقف کو ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی عہدے پر فائز ہونے کے ناطے وہ ایسے اقدامات کو خاموشی سے قبول نہیں کر سکتے جو آئین سے متصادم ہوں۔
مذکورہ استعفے کے بعد خیبر پختونخوا کے قانونی و انتظامی حلقوں میں اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شاہ فیصل الیاس نے اپنے استعفے کو قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایک احتجاجی قدم قرار دیا ہے۔
اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی سطح پر آئینی ماہرین کے مابین بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ شاہ فیصل الیاس کا یہ اقدام ملک میں جاری سیاسی و آئینی کشمکش کے تناظر میں ایک اہم واقعہ تصور کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں