پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا نے کہا ہے کہ میدان میں اترنے کے بعد ان کی اولین ترجیح ہمیشہ ملک کی فتح ہوتی ہے، اور وہ اپنی ذاتی کارکردگی سے زیادہ قومی ٹیم کی کامیابی پر خوش ہیں۔
ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے جس میں کھلاڑیوں کا باہمی تال میل اور بہترین کمبی نیشن ہی کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، جس کا عملی مظاہرہ حالیہ میچوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔
محمد عمران رندھاوا نے ٹیم کی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں دکھائی گئی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے جس کی وجہ سے نتائج مثبت رہے ہیں۔
اپنے کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں، جس سے انہیں اپنے کھیل کو نکھارنے اور مختلف حالات میں کھیلنے کا بھرپور تجربہ حاصل ہوا ہے۔
آل راؤنڈر کے طور پر اپنی گزشتہ 2 سال کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور لگن ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ انہوں نے اس سفر میں ملنے والے مواقع کو اپنی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
محمد عمران رندھاوا نے پی ایس ایل اور چیمپئنز کپ میں اپنی کارکردگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان ٹورنامنٹس میں عمدہ کھیل پیش کرنے کے بعد ہی انہیں قومی ٹیم میں جگہ بنانے کا موقع ملا، جس پر وہ اللہ کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے قومی ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ان کی بیٹنگ کی تعریف کی۔ رندھاوا کے مطابق کپتان کا اعتماد ٹیم کے لیے بہت حوصلہ افزا ثابت ہوتا ہے اور کھلاڑیوں کو بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد ملتی ہے۔
میچ کی جیت کا سہرا پوری ٹیم کے سر باندھتے ہوئے انہوں نے معاذ صداقت کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا ہر رکن اپنی جگہ اہم ہے اور سب کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان کو فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔
کرکٹ میں اپنی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے لیے اپنی محنت جاری رکھیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ کھلاڑی کا کام صرف سخت محنت کرنا ہے جبکہ نتائج کا انحصار نصیب پر ہوتا ہے۔
محمد عمران رندھاوا نے مزید کہا کہ وہ اپنی فٹنس اور فارم کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا ہدف ہے کہ وہ آنے والے مقابلوں میں بھی اسی طرح قومی ٹیم کی جیت میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنا ایک اعزاز کی بات ہے اور وہ اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ قومی ٹیم کے لیے ان کی خدمات کا سلسلہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ صبر اور مستقل مزاجی سے کام لیں۔ ان کے مطابق کرکٹ میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے اور صرف محنت ہی کھلاڑی کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
آخر میں انہوں نے اپنے مداحوں اور قوم سے اپیل کی کہ وہ ٹیم کی حمایت جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی دعائیں اور حوصلہ افزائی کھلاڑیوں کے لیے کسی بڑے اثاثے سے کم نہیں ہے جو انہیں مشکل وقت میں ہمت دیتی ہے۔





اپنی رائے دیں