لاہور میں روایتی کھیلوں کے فروغ اور پہلوانی کے فن کو زندہ رکھنے کیلئے دیسی کشتی کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ ایونٹ لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں شہر بھر سے نامور پہلوان اپنی طاقت اور مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مقابلوں کا انعقاد چائنہ اسکیم میں واقع شہباز شریف اسٹیڈیم میں کیا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں کشتی کے شائقین موجود ہیں۔ اس دنگل کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر کشتی کے کھیل کو دوبارہ مقبول بنانا اور نوجوان نسل کو اس قدیم ورثے کی طرف راغب کرنا ہے۔
پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے صدر چوہدری ارشد ستار کی خصوصی ہدایات پر منعقد ہونے والے اس ایونٹ کی نگرانی لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن کے صدر مہر اکرم عرف کالا پہلوان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقابلوں سے پہلوانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
اس دنگل میں شریک ہونے والے ہر کشتی کے فاتح پہلوان کو نقد انعامات سے نوازا جائے گا۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ انعامی رقم سے پہلوانوں کو اپنی خوراک اور تربیت کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی اور وہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔
تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے صدر چوہدری ارشد ستار اور قیصر رشید شرکت کر رہے ہیں۔ مہمانوں کی موجودگی سے ایونٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور پہلوانوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے۔
مقابلوں کو کامیاب بنانے کیلئے قومی کوچ فرید علی پہلوان، طاہر ببا پہلوان، جہان خان، سونا چاندی اور مہر وقاص بھی متحرک ہیں۔ یہ ماہرین مقابلوں کے دوران تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں تاکہ کشتی کے اصولوں کے مطابق فاتح کا فیصلہ کیا جا سکے۔
دیسی کشتی کا یہ دنگل لاہور کے روایتی ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کے ایونٹس نہ صرف صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پہلوانی کے اس قدیم فن کو جدید دور میں بھی زندہ رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔
شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود ہے جو اپنے پسندیدہ پہلوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ پہلوانوں کے مابین سخت مقابلے متوقع ہیں اور ہر پہلوان اپنی پوری قوت کے ساتھ داؤ پیچ آزمانے کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اس طرح کے مقابلوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن کا عزم ہے کہ وہ پہلوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کرے گی تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔
پہلوانی کا کھیل برصغیر کی قدیم تاریخ کا حصہ رہا ہے اور لاہور میں اس کے گہرے اثرات موجود ہیں۔ آج کے اس دنگل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ لوگ آج بھی اس روایتی کھیل سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں۔
مقابلوں کے اختتام پر فاتح پہلوانوں میں انعامات تقسیم کیے جائیں گے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس طرح کی تقریبات سے مقامی سطح پر کھیلوں کے کلچر کو فروغ ملتا ہے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے میں مدد ملتی ہے۔
چائنہ اسکیم کے شہباز شریف اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ ایونٹ پہلوانی کے شائقین کیلئے ایک یادگار دن ثابت ہو رہا ہے۔ منتظمین نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور شائقین کی شرکت کو سراہا ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے مقابلوں سے پہلوانی کے کھیل میں نئی روح پھونکی جا سکے گی۔ لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن کی یہ کاوشیں پہلوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے اور اس کھیل کو نئی بلندیوں پر لے جانے میں معاون ثابت ہوں گی۔





اپنی رائے دیں