صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے فراری کمانڈر نور خان بگٹی نے اپنے 60 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ پیش رفت سوئی کے مقام پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران سامنے آئی۔
پاکستان ہاؤس سوئی میں منعقدہ اس تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کھلی کچہری کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر نور خان بگٹی اور ان کے ہمراہ آنے والے تمام افراد نے پاکستان کے ساتھ مکمل وفاداری کا حلف اٹھایا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق نور خان بگٹی گزشتہ 20 سال سے پہاڑوں میں روپوش تھے اور اس دوران وہ متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان کی واپسی کو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے دوران کمانڈر نور خان بگٹی نے اپنے خاندان کے افراد سمیت مجموعی طور پر 60 ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار حکام کے حوالے کیے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرینڈر کرنے والے یہ تمام افراد اب سوئی کے علاقے میں ہی سکونت اختیار کریں گے۔
اس موقع پر سیکیورٹی اداروں کے حکام اور مقامی عمائدین بھی موجود تھے۔ نور خان بگٹی کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا عمل بلوچستان میں جاری مفاہمتی عمل اور پرامن بقائے باہمی کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے ماضی میں بھی پہاڑوں پر موجود ناراض افراد کو قومی دھارے میں لانے کے لیے مختلف مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ صوبے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
نور خان بگٹی کا شمار ان فراری کمانڈروں میں ہوتا تھا جو طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز کے لیے مطلوب تھے۔ ان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے بعد علاقے میں امن کی فضا مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تقریب کے شرکاء نے نور خان بگٹی کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پرتشدد راستے چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے دیگر نوجوانوں کو بھی تشدد کا راستہ ترک کرنے کی ترغیب ملے گی۔
حکومت بلوچستان نے اس موقع پر کہا ہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے افراد کو معاشرے کا فعال رکن بننے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ سوئی میں منعقدہ اس تقریب کا اختتام پرامن طریقے سے ہوا۔
اس پیش رفت کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اور حکام کی جانب سے مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ نور خان بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی واپسی کو مقامی سطح پر خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔
بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن کا قیام ناگزیر ہے اور اس طرح کے اقدامات سے ریاست کی رٹ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت بلوچستان صوبے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
نور خان بگٹی کی واپسی کے بعد اب وہ اپنے خاندان کے ساتھ سوئی میں پرامن زندگی گزاریں گے۔ سرکاری حکام نے اس موقع پر تمام شرکاء کو یقین دلایا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کے لیے حکومتی پالیسیاں یکساں رہیں گی۔
اس اہم موقع پر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے پرچم تلے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے دعا بھی کی۔





اپنی رائے دیں