مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 رات 3:22 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:18
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
رات 3:2212 اکتوبر
دنیا

روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو رہی ہے۔

روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اہم اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین توانائی سے متعلق جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک حالیہ پوسٹ کے ذریعے تفصیلات شیئر کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان توانائی کی تنصیبات اور شعبے سے جڑی جنگ بندی کا نفاذ کیا جا رہا ہے جو فوری طور پر لاگو ہوگی۔ امریکی صدر نے دونوں ممالک کو ہدایت کی کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔

امریکی صدر کے اس اہم بیان کے بعد روس اور یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تردید یا تائید سامنے نہیں آئی تھی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ روز امریکی صدر نے یوکرین میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا جس پر روس کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریز پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یوکرینی صدر پر کھل کر تنقید کی تھی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والے افراد کو بھی مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یوکرینی قیادت نے تنازع کے پرامن حل اور جنگ کے خاتمے کے مواقع کو بارہا مسترد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے کئی مواقع موجود تھے لیکن انہیں دانستہ طور پر ٹھکرایا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اب ایک ایسے نئے صدر کا انتخاب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ایک ایسا نیا لیڈر درکار ہے جو اس طویل اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ معاہدہ کر سکے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد روسی حکام کی طرف سے ردعمل ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا تھا کہ یوکرینی صدر کی رخصتی کے حوالے سے امریکی مطالبہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی نوعیت کا بیان ہے۔

عالمی سیاسی مبصرین اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ توانائی جنگ بندی کا یہ معاہدہ زمینی حقائق پر کتنا اثرانداز ہوتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس عارضی یا جزوی سیز فائر سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے باعث پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس نوعیت کی جنگ بندی اگر طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو اس سے عام شہریوں اور معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری کشمکش اور اب اس توانائی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آئندہ کے چند روز انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا تعین ہو سکے۔

واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ توانائی کے شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے مابین اس مبینہ سمجھوتے کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اس سے قبل اس نوعیت کے حملے دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے تھے جن پر اب قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوںممالک اس توانائی جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر کے اقتصادی اور سیاسی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں