وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری کے لیے آئندہ روز وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صوبے میں درپیش انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور معمولات زندگی کو بحال کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی مشاورتی بیٹھک میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اس سلسلے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اہم حکومتی اور عسکری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کی معاونت کے لیے وفاقی کابینہ کے سینیئر ارکان اور مشیران موجود تھے۔ معاونت کرنے والوں میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، سیاسی امور کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ بھی اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔ اجلاس میں قانون اور آئین کے مختلف پہلوؤں پر طویل غوروخوض کیا گیا تاکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تمام آئینی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری کی معاونت کے لیے بھی پیپلز پارٹی کی اہم قیادت اور سینیٹرز ایوان صدر کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ ان رہنماؤں میں سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والے اس مشاورتی اجلاس کی بنیادی وجہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے بھجوائی گئی وہ رپورٹ تھی جس میں صوبے کی موجودہ امن و امان اور انتظامی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی۔
گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے کے اندرونی حالات، سکیورٹی کے امور اور انتظامی مشینری کی کارکردگی کا احاطہ کیا گیا تھا جس پر اعلیٰ سطح پر گہرا غور کیا گیا۔ اس رپورٹ کے جائزے کے بعد ہی صوبے میں آئینی و انتظامی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے حتمی فیصلے کی طرف بڑھنے کا اتفاق ہوا۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کر لیا گیا ہے جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باقاعدہ منظوری لیے جانے کا قوی امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اس فیصلے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ طے پایا ہے کہ منگل تیرہ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
پارلیمنٹ کے ان ایوانوں میں ارکان کو خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور حکومت کے اس فیصلے کے محرکات سے آگاہ کیا جائے گا، جہاں حکومت اس اقدام پر قانون سازوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
اس تمام پیشرفت کے تناظر میں سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور مختلف جماعتوں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے صوبے میں کسی بھی قسم کی ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی تردید کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے انتظامی اقدامات کا مقصد سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانا یا کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا ہے، جس کی وہ بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کافی تعداد میں کارکنان پہلے ہی پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔
دوسری طرف گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں کسی بھی غیرمعمولی انتظامی اقدام کا مقصد ہرگز کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کے آنے والے دنوں میں ہونے والے یہ اجلاس انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، جن میں ملکی سیاسی مستقبل اور صوبائی انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔ تمام نگاہیں اب منگل کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے ان دونوں اجلاسوں پر مرکوز ہیں۔





اپنی رائے دیں