اسلام آباد کے پاکستان ٹینس کمپلیکس میں جاری بین الاقوامی ویمنز ٹینس چیمپیئن شپ کے مقابلے انتہائی دلچسپ اور شاندار انداز میں جاری ہیں۔ اس باوقار ایونٹ میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت خواتین کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہی ہیں۔ چیمپیئن شپ کے پہلے مرحلے کے دوران کھیلے گئے ڈبلز کے ایک انتہائی اہم اور کانٹے دار فائنل معرکے میں شائقین کو بہترین کھیل دیکھنے کو ملا۔
فرانسیسی کھلاڑی ایسٹرڈ سیروٹے اور میکسیکو کی سباستیانی لیون پر مشتمل جوڑی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبلز کا ٹائٹل جیت لیا۔ فاتح جوڑی نے فائنل میچ میں حریف کھلاڑیوں کے خلاف عزم اور استقلال کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے میدان مارا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی دونوں کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر اپنی جاندار فارم کا ایک بار پھر بھرپور طریقے سے لوہا منوا لیا ہے۔
فائنل مقابلے میں فرانسیسی اور میکسیکو کی جوڑی کا مقابلہ جنوبی کوریا کی جیونگ مون اور تھائی لینڈ کی کامونوان یوڈپیچ پر مشتمل جوڑی کے ساتھ تھا۔ میچ کے آغاز ہی دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مسابقت دیکھی گئی جہاں ہر پوائنٹ کے لیے کھلاڑیوں نے زبردست جانفشاں کوشش کی۔ شائقین ٹینس نے اس سنسنی خیز مقابلے سے بھرپور لطف اٹھایا اور گراؤنڈ میں موجود تماشائیوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
ابتدا میں کورین اور تھائی جوڑی نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ اپنے نام کیا اور برتری حاصل کی۔ انہوں نے اپنے روایتی جارحانہ انداز کو برقرار رکھتے ہوئے فرانسیسی اور میکسیکو کی جوڑی کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم فاتح جوڑی نے مایوس ہونے کے بجائے گیم میں شاندار واپسی کی اور حریفوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔
دوسرے سیٹ میں ایسٹرڈ سیروٹے اور سباستیانی لیون نے زبردست کم بیک کیا اور حریف جوڑی کو مکمل طور پر دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ انہوں نے شاندار شٹس اور بہترین کورٹ کوریج کی بدولت دوسرا سیٹ آسانی کے ساتھ اپنے نام کر لیا۔ اس کامیابی سے میچ کا فیصلہ کن مرحلہ انتہائی دلچسپ موڑ پر داخل ہو گیا جہاں دونوں ٹیمیں پوری طرح متحرک تھیں۔
فیصلہ کن اور تیسرے ٹائی بریک سیٹ میں فرانس اور میکسیکو کی جوڑی نے اپنی برتری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انتہائی مہارت اور تحمل کے ساتھ کھیلتے ہوئے مخالفین کو دباؤ میں رکھا اور میچ اپنے نام کر لیا۔ اس طرح فائنل کا مجموعی اسکور پانچ سات، چھ دو اور دس پانچ رہا جو ان کے سخت محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب چیمپیئن شپ کے سنگلز مقابلوں میں بھی سنسنی خیز مقابلے دیکھنے میں آئے جہاں کھلاڑیوں نے فائنل تک رسائی کے لیے جان توڑ محنت کی۔ سیمی فائنل کے مرحلے میں فرانس کی ایسٹرڈ سیروٹے اور تھائی لینڈ کی کامونوان یوڈپیچ نے شاندار فتوحات حاصل کر کے سنگلز فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی اس کامیابی نے ٹورنامنٹ کے آخری مراحل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
ٹاپ سیڈ فرانسیسی کھلاڑی ایسٹرڈ سیروٹے نے سیمی فائنل کے معرکے میں ازبکستان کی سیول یولداشیوا کو سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔ انہوں نے دو سیٹس کے اس میچ میں چھ چار اور سات پانچ سے کامیابی حاصل کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی۔ ازبک کھلاڑی نے بھی بھرپور مقابلہ کیا لیکن تجربہ کار سیروٹے نے اہم مواقع پر بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا۔
تھائی لینڈ کی کامونوان یوڈپیچ نے دوسرے سیمی فائنل میچ میں جنوبی افریقا کی ووزوکو مڈلوالو کے خلاف شاندار اور فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ انہوں نے حریف کھلاڑی کو کسی بھی موقع پر سنبھلنے کا موقع نہ دیتے ہوئے چھ صفر اور چھ چار کے واضح اسکور سے شکست دی۔ اس شاندار فتح کے بعد اب وہ ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی۔
ویمنز سنگلز کا یہ انتہائی اہم فائنل مقابلہ مقررہ تاریخ کو اسلام آباد کے پی ٹی ایف ٹینس کمپلیکس کے گرین کورٹس پر کھیلا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق اس فائنل میچ کا آغاز دوپہر کے وقت ہوگا جس میں دونوں نامور کھلاڑی چیمپئن بننے کے لیے زور آزمائی کریں گی۔ ٹینس کے متوالے اس فائنل کے لیے تفتش سے انتظار کر رہے ہیں اور سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس بین الاقوامی چیمپیئن شپ کے پہلے مرحلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کل سترہ ممالک کی تیس کھلاڑی حصہ لے رہی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت پاکستان میں کھیلوں کے بہتر ماحول اور بین الاقوامی سطح کے تعاون کی غمازی کرتی ہے۔ اس سے ملک میں ٹینس کے کھیل کو فروغ دینے میں بھی خاطر خواہ مدد مل رہی ہے۔
اس عالمی درجے کی ویمنز ٹینس چیمپیئن شپ کی باقاعدہ سرپرستی کا فریضہ معروف کاروباری ادارے فاطمہ گروپ کی جانب سے انجام دیا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ سیکرٹریز اور اداروں کا اس طرح کے کھیلوں کے فروغ میں حصہ لینا پاکستان میں نوجوان نسل کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ اس سرپرستی سے ایونٹ کے انتظامات کو احسن طریقے سے چلانے میں مدد ملی ہے۔
چیمپیئن شپ میں دنیا بھر سے جن ممالک کی نامور کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے ان میں فرانس، چین، روس اور ڈنمارک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میکسیکو، ازبکستان، جنوبی افریقا، نیدرلینڈز، جنوبی کوریا اور نیپال کی باصلاحیت کھلاڑی بھی اس کا حصہ ہیں۔ کھیلوں کی یہ رنگا رنگ سرگرمیاں پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے پرامن اور سازگار ماحول کی عکاس ہیں۔
اس فہرست میں جاپان، ہانگ کانگ، جرمنی، تھائی لینڈ، ترکیہ اور جمہوریہ چیک کے ساتھ ساتھ میزبان پاکستان کی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ اتنے وسیع پیمانے پر غیر ملکی کھلاڑیوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک بہترین اور محفوظ ملک ہے۔ اس طرح کے ایونٹس سے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اسلام آباد ورلڈ ٹینس ویمنز فیوچرز چیمپیئن شپ پاکستان میں ٹینس کے کھیل کی ترویج کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے کامیاب انعقاد سے نہ صرف شائقین کو اعلیٰ معیار کا کھیل دیکھنے کو ملا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ بھی اجاگر ہوا۔ آئندہ روزز ہونے والے سنگلز فائنل پر اب تمام کھیلوں کے شائقین کی نظریں مرکوز ہیں۔





اپنی رائے دیں