کینیا کے نامور ایتھلیٹ اور دو مرتبہ کے اولمپک چیمپئن ایلیوڈ کیپچوگے نے آسٹریلیا میں منعقدہ میلبرن میراتھون میں اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے مقررہ فاصلہ دو گھنٹے نو منٹ اور دس سیکنڈ میں طے کیا۔
اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی 41 سالہ کیپچوگے نے میلبرن میراتھون کا نیا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ریکارڈ کو دو سیکنڈ کے معمولی فرق سے بہتر بنایا ہے جو ان کی بہترین فٹنس اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایلیوڈ کیپچوگے کے کیریئر کی یہ میراتھون مقابلوں میں 17ویں بڑی فتح ہے۔ اس کامیابی نے ان کے ناقدین کے ان خدشات کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے جو ان کی عمر کے حوالے سے ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے تھے۔
واضح رہے کہ کیپچوگے نے تین برس کے طویل وقفے کے بعد کسی میراتھون میں کامیابی کا ذائقہ چکھا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی آخری بڑی فتح 2023 میں برلن میراتھون کے دوران حاصل کی تھی جس کے بعد وہ مسلسل محنت کر رہے تھے۔
اپنی جیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپچوگے نے کہا کہ ان کا جسم اب بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلی نسل کے ایتھلیٹس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمر رسیدہ ایتھلیٹس آج بھی بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر رہے ہیں اور انہیں نوجوان ایتھلیٹس کے ساتھ دوڑ کر کافی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا عزم ہے کہ وہ مزید مقابلوں میں بھی حصہ لیں گے۔
میلبرن میراتھون میں آسٹریلیا کے تھامس ڈو کانٹو نے دو گھنٹے دس منٹ اور 35 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ وہ کیپچوگے کے ریکارڈ کو توڑنے کے قریب پہنچے تھے تاہم دوسرے نمبر پر رہے۔
اسی طرح آسٹریلیا کے ہی ریس ایڈورڈز نے دو گھنٹے 14 منٹ اور 33 سیکنڈ میں ریس مکمل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ایتھلیٹس نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
خواتین کی کیٹیگری میں نیوزی لینڈ کی کیملی فرنچ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو گھنٹے 28 منٹ اور 25 سیکنڈ میں ریس جیت لی۔ انہوں نے اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل کی۔
خواتین کے مقابلے میں آسٹریلیا کی سینیڈ ڈائیور نے دو گھنٹے 28 منٹ اور 49 سیکنڈ کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ وہ فاتح کھلاڑی سے صرف چند سیکنڈ کے فرق سے پیچھے رہ گئیں۔
آئرلینڈ کی نکولا شیریڈن نے دو گھنٹے 29 منٹ اور 13 سیکنڈ میں ریس مکمل کر کے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ یہ مقابلہ کافی سخت رہا اور آخری لمحات تک کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ جاری رہا۔
میلبرن میراتھون کا شمار دنیا کی اہم ترین دوڑ کے مقابلوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال عالمی سطح کے ایتھلیٹس شرکت کرتے ہیں۔ اس سال کیپچوگے کی شرکت نے اس ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا تھا۔
ایلیوڈ کیپچوگے کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ اگر کھلاڑی اپنے نظم و ضبط اور تربیت پر توجہ دے تو عمر کا بڑھنا اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ وہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس کے لیے ایک مثال ہیں۔





اپنی رائے دیں