ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔
رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔
گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری کشمکش نے ملکی معیشت اور عام زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک تمام سیاسی فریقین بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بحرانوں پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ اپوزیشن کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
صوبہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، جہاں کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ایسے اہم اور حساس صوبے میں کسی بھی قسم کے غیر معمولی انتظامی فیصلوں کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے کے نوجوانوں کو ایسے فیصلوں سے کیا پیغام جا رہا ہے۔
ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔
امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔
موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔
ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے اس تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں