وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم فیصلے میں تمام اتحادی جماعتیں مکمل طور پر آن بورڈ ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ 2 سے 3 ہفتوں سے اس معاملے پر مشاورت جاری تھی۔ صوبائی حکومت کو بارہا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گورنر راج کی مدت محدود ہوتی ہے جبکہ ایمرجنسی کا نفاذ غیر معینہ مدت کے لیے ہوتا ہے۔ ایمرجنسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس کے مقاصد اور اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ حکومت کا مقصد جلد از جلد امن کا قیام ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایمرجنسی کا نفاذ پورے خیبرپختونخوا پر کیا گیا ہے، تاہم 12 شدید متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز براہ راست وفاقی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ سول انتظامیہ کے فعال کردار کے بغیر اس جنگ میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں ہے۔
سہیل آفریدی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وہ اس وقت محفوظ تحویل میں ہیں، تاہم وہ فی الحال اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اب خیبرپختونخوا میں امن قائم ہے اور غیر ضروری گرفتاریاں نہیں کی جائیں گی۔ جو افراد کسی ایف آئی آر میں مطلوب ہیں، ان کا معاملہ قانون کے مطابق الگ سے دیکھا جائے گا جس کا ایمرجنسی سے براہ راست تعلق نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اختیارات کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبائی انتظامی امور گورنر خیبرپختونخوا کو تفویض کیے جائیں۔ فیصل کریم کے نام پر کسی کو تحفظات نہیں تھے، اس لیے کوئی دوسرا نام تجویز کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف سنجیدہ سیاست نہیں کر رہی اور ان کے اپنے ارکان اسمبلی بھی اس طرز عمل سے بیزار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے نصف سے زائد ارکان استعفے نہیں دیں گے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کوئی بھی اہم فیصلہ نواز شریف کی مشاورت کے بغیر نہیں کرتے۔ اسحاق ڈار کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کے بعد ہی حکومت نے یہ سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انتظامی مشینری کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ صوبے میں معمولات زندگی کو بحال رکھا جا سکے۔





اپنی رائے دیں