خیبرپختونخوا میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضلع صوابی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 59 کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں لائی گئیں جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔ پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ضلع صوابی میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیر کے روز ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اب اس مارچ کے انعقاد کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور اسلام آباد موٹر وے پر دریائے سندھ کے پل اور جہانگیرہ پل سمیت دیگر حساس مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
اگرچہ اہم مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کنٹینرز پہنچائے گئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی رکھی گئی ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت پشاور اور دیگر شہروں میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا کی زیر صدارت خصوصی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔
اس صورتحال کے تناظر میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی کل طلب کر لیا گیا ہے جس میں سیکیورٹی امور پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صوبے میں جاری کشیدگی کے باعث تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی فیصلے کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں کل اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ طلبا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کی تاریخ میں گورنر راج کا نفاذ ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ صوبے کو بحران سے نکالا جا سکے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات عوامی تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔
آئندہ چند گھنٹے صوبے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر جاری کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں معمول کی زندگی کو بحال کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کیا جائے۔





اپنی رائے دیں