مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 رات 3:20 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:18
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
رات 3:2012 اکتوبر
پاکستان بریکنگ نیوز

صوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سخت

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

صوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سخت

خیبرپختونخوا میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضلع صوابی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 59 کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں لائی گئیں جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔ پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ضلع صوابی میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیر کے روز ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اب اس مارچ کے انعقاد کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور اسلام آباد موٹر وے پر دریائے سندھ کے پل اور جہانگیرہ پل سمیت دیگر حساس مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔

اگرچہ اہم مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کنٹینرز پہنچائے گئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی رکھی گئی ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔

دوسری جانب صوبائی دارالحکومت پشاور اور دیگر شہروں میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا کی زیر صدارت خصوصی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔

اس صورتحال کے تناظر میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی کل طلب کر لیا گیا ہے جس میں سیکیورٹی امور پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صوبے میں جاری کشیدگی کے باعث تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی فیصلے کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں کل اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ طلبا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی تاریخ میں گورنر راج کا نفاذ ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ صوبے کو بحران سے نکالا جا سکے۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات عوامی تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

آئندہ چند گھنٹے صوبے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر جاری کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں معمول کی زندگی کو بحال کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کیا جائے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں