وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی قسم کا بڑا فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی شہری کو بے گھر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر معینہ مدت تک برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے 12 میں سے 5 اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس تھانے اور سی ٹی ڈی کا وجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی موقف کی تائید کرنے میں صوبائی حکومت ناکام رہی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر بھتہ مافیا، سمگلنگ اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے کچھ اضلاع میں دن کے وقت حکومت جبکہ رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہوتا ہے، اور یہ بات مقامی لوگ خود تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاق کی جانب سے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ہو رہا ہے اور اس معاملے پر متعدد بار بات چیت کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے ذریعے بھی معاملہ اٹھایا لیکن صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سیاست کرنے اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کرنا احتجاج کا درست طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی ہدایات پر گورنر خیبر پختونخوا پوری طرح عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سی ٹی ڈی نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی پر قابو پایا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں بھی پولیس اور سول انتظامیہ کو فعال بنا کر امن قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں منشیات فروشی اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی وفاق کی ترجیح ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے گا تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے اور قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔





اپنی رائے دیں