خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے نواحی علاقوں میں شدید طوفان اور تباہ کن ژالہ باری نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آسمان سے برسنے والے بڑے سائز کے اولوں نے مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر نقصانات پہنچائے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پنیالہ کے قریب واقع علاقے وانڈھا لوہانی میں طوفان اور ژالہ باری کی شدت سب سے زیادہ رہی۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں درجنوں کی تعداد میں مویشی اور پرندے ہلاک ہو گئے ہیں، جس سے مقامی مال مویشی پالنے والوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ژالہ باری کے دوران گرنے والے اولوں کے حجم کے باعث علاقے میں نصب سولر پلانٹس اور سولر پینلز کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اولوں کی زد میں آنے سے پینلز کے شیشے ٹوٹنے کا خدشہ ہے جس سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
علاقے میں اس غیر معمولی موسمی صورتحال کے بعد تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور متاثرین کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ تباہی کی مکمل تفصیلات مرتب کی جا سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانوروں اور پرندوں کی ہلاکتوں کے علاوہ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال نقصانات کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے مذکورہ علاقوں میں حالیہ طوفان نے زرعی شعبے اور مقامی انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے۔ اولوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے کھلی جگہوں پر موجود مویشیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور وہ بروقت محفوظ مقامات پر منتقل نہ ہو سکے۔
سولر پینلز کا وسیع پیمانے پر نقصان مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ بجلی کی ضروریات کے لیے اس علاقے میں شمسی توانائی کا استعمال کافی عام ہے۔ پینلز ٹوٹنے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ افراد کو نقصانات کی تلافی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، علاقے میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کی صورت میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں اس طرح کے شدید طوفان اور ژالہ باری کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین موسمیات نے بھی اس طرح کے غیر متوقع موسمی تغیرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وانڈھا لوہانی اور گردونواح کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نقصانات کا سروے کر کے متاثرین کی مالی معاونت کی جائے۔ مویشیوں کا ضیاع غریب کسانوں کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے جس سے ان کا ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوا ہے۔
علاقے کے لوگ اب بھی موسم کی خرابی کے پیش نظر محتاط رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شدید موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کھلے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔
مستقبل میں اس طرح کے نقصانات سے بچنے کے لیے سولر پینلز کی تنصیب اور حفاظتی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ نقصانات کی نوعیت کا درست تعین کیا جا سکے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے تاکہ لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں