ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان میں داخلے کی ایک مذموم کوشش کو سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرحد پر مشتبہ گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ دراندازی کی اس کوشش کے دوران افغان طالبان کی پوسٹوں سے بھی دہشت گردوں کی معاونت کے لیے فائرنگ کی گئی۔
فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں نائب صوبیدار ہدایت امان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ 40 سالہ شہید نائب صوبیدار ہدایت امان کا تعلق ضلع غذر سے تھا، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلسل اس خدشے کا اظہار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان طالبان رجیم سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے بجائے اس کی سہولت کاری اور سرپرستی کر رہی ہے۔ عبوری افغان حکومت اپنی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے ایک بھرپور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد علاقے کو ہر قسم کے دہشت گرد عناصر سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ بیرونی معاونت سے ہونے والی کسی بھی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ تاہم، سرحد پار سے ہونے والی ایسی کارروائیاں افغان حکومت کی ناکامی اور پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہیں۔
شہید نائب صوبیدار ہدایت امان کی قربانی نے ملکی سرحدوں کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پر نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کو ملکی سالمیت کے لیے چیلنج نہیں بننے دے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں اور یہ عزم جاری رہے گا۔
علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے بعد صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے دہشت گرد کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ نائب صوبیدار ہدایت امان کی شہادت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاک فوج کا ہر جوان ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔





اپنی رائے دیں