بلوچستان کے ضلع پشین میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران افغانستان سے اسمگل کیا جانے والا اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی کھیپ پکڑ لی ہے۔ یہ کارروائی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ مشترکہ آپریشن ایف سی بلوچستان اور دیگر سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن ردالفتنہ کے تحت عمل میں لایا گیا۔ خفیہ اداروں کو پشین کے علاقے سرانان میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے اسلحہ منتقلی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
اطلاعات ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرانان میں ایک گودام پر چھاپہ مارا جہاں ایک گاڑی موجود تھی جو اسلحہ اور گولہ بارود سے بھری ہوئی تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں موجود ممنوعہ مواد کو برآمد کر لیا۔
برآمد کیے گئے اسلحہ میں 3 آر پی جی، 4 لائٹ مشین گنز، ایک مشین گن، دستی بم اور بڑی تعداد میں راکٹس شامل ہیں۔ یہ اسلحہ افغانستان سے لایا گیا تھا اور اسے کسی تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کا خدشہ تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرانان اور گردونواح کے علاقوں میں مشتبہ عناصر کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔ علاقے کی ناکہ بندی کر کے داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ آپریشن ردالفتنہ کے تحت بلوچستان بھر میں سکیورٹی ادارے مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی بار خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد پکڑا جا چکا ہے جس سے ممکنہ بڑے سانحات کو روکا گیا۔
علاقہ مکینوں نے سکیورٹی فورسز کی اس بروقت کارروائی کو سراہا ہے اور اسے امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ سکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ افراد یا سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی سالمیت اور امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پشین میں ہونے والی اس کارروائی کے بعد سکیورٹی حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال کیا گیا ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی غیر قانونی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
اسلحہ کی برآمدگی کے بعد تفتیشی ٹیموں نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ یہ اسلحہ کس گروہ کے لیے لایا گیا تھا اور اس کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں تاکہ ان تک پہنچا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گودام کو گھیرے میں لیا اور کسی بھی مزاحمت کے بغیر اسلحہ قبضے میں لے لیا۔
پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ پشین کا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز ہر لمحہ چوکس ہیں اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔





اپنی رائے دیں