فرانسیسی خلا باز سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں طویل قیام کے بعد زمین پر واپسی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلندی سے دیکھنے پر زمین پر کوئی جغرافیائی تقسیم یا سرحدیں نظر نہیں آتیں، بلکہ یہ ایک قیمتی سیارہ ہے جو ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) سے وابستہ 44 سالہ سوفی ایڈنوٹ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مجموعی طور پر 235 دن گزارے۔ یہ دورانیہ کسی بھی یورپی خلا باز کی جانب سے مدار میں مسلسل قیام کا ایک نیا اور اہم ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔
جرمنی کے شہر کولون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوفی ایڈنوٹ نے بتایا کہ خلا میں آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے انسانی جذبات کے ہر پہلو کا تجربہ کیا۔ زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر موجودگی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انسانیت کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔
سوفی ایڈنوٹ جمعرات کے روز اپنے تین ساتھی خلا بازوں کے ہمراہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں ایک خلائی کیپسول کے ذریعے بحفاظت زمین پر واپس پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپسی کے وقت سمندر میں شدید لہروں کے باعث کیپسول کو تقریباً 25 منٹ تک مشکل حالات کا سامنا رہا۔
جرمنی واپسی کے موقع پر سوفی ایڈنوٹ جسمانی طور پر کچھ کمزور دکھائی دیں اور انہیں چلنے پھرنے کے لیے طبی عملے کی مدد درکار تھی۔ ماہرین کے مطابق خلا میں طویل قیام کے دوران کششِ ثقل کی عدم موجودگی انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
خلائی سفر کے انسانی جسم پر اثرات کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ہڈیوں کی کثافت میں کمی، پٹھوں کی کمزوری اور دورانِ خون کے نظام میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ سوفی ایڈنوٹ کو اب اپنی مکمل بحالی کے لیے تین ہفتوں پر محیط ایک خصوصی پروگرام سے گزرنا ہوگا۔
سوفی ایڈنوٹ نے اعتراف کیا کہ زمین پر واپس آنا ان کے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے، تاہم جسمانی طور پر دوبارہ معمول پر آنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلا میں گزارا گیا وقت ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا جس نے ان کی سوچ کو وسعت دی۔
یورپی خلائی ایجنسی کے حکام نے بھی سوفی ایڈنوٹ کے اس مشن کو سراہا ہے اور اسے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مشنز سے نہ صرف سائنسی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے بارے میں بھی آگاہی ملتی ہے۔
خلا بازوں کا یہ مشن بین الاقوامی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے، جس میں مختلف ممالک کے ماہرین نے مل کر کام کیا۔ سوفی ایڈنوٹ کا پیغام دنیا بھر میں امن اور باہمی رواداری کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سوفی ایڈنوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مختلف جغرافیائی اور سیاسی تنازعات جاری ہیں۔ ان کا یہ جذباتی پیغام یاد دلاتا ہے کہ کائنات کے وسیع تناظر میں زمین کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری تمام انسانوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔
خلائی سفر کے دوران سوفی ایڈنوٹ نے مختلف سائنسی تجربات بھی کیے جن سے مستقبل کے خلائی مشنز میں مدد ملے گی۔ ان تجربات کا مقصد انسانی جسم پر خلا کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنا اور ان کے تدارک کے لیے جدید طریقے وضع کرنا ہے۔
سوفی ایڈنوٹ کی واپسی کے بعد اب ان کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یورپی خلائی ایجنسی نے ان کی ہمت اور عزم کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
یہ مشن نہ صرف سوفی ایڈنوٹ کے لیے بلکہ پوری یورپی خلائی ایجنسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کے مزید مشنز کے ذریعے خلا کے بارے میں مزید رازوں سے پردہ اٹھایا جائے گا اور انسانیت کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔





اپنی رائے دیں