معروف سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غیر محتاط استعمال اور ممکنہ جوہری تصادم آنے والے برسوں میں دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے دو سو سے زائد ممالک اور خطوں پر مشتمل اس جامع جائزے میں انسانیت کو درپیش ان خطرات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔
محققین نے اپنی اس رپورٹ میں کل سترہ ایسے بڑے خطرات کی نشاندہی کی ہے جو کرہ ارض پر انسانی بقا اور صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان خطرات کا تعلق بنیادی طور پر بدلتے ہوئے ماحول، معاشیات، ٹیکنالوجی اور عالمی تنازعات سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان تمام خطرات میں سرفہرست خطرہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال اور کسی بھی ایٹمی جنگ یا تنازع کا ابھرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں عناصر اتنی بڑی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں جو انسانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔
مذکورہ تحقیق میں انسانی صحت کو براہ راست متاثر کرنے والے پندرہ دیگر عوامل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جن میں ماحول کی خرابی اور فضائی آلودگی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خطرناک بیماریاں، متعدی وبائیں اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی انسانی صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ غیر معیاری طرز زندگی اور غذائی عادات بھی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان میں تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال، موٹاپا اور ذہنی صحت کے مسائل سرفہرست بتائے گئے ہیں۔
محققین نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان سنگین خطرات کے باوجود اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ خطرات اور چیلنجز ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دفاعی، اقتصادی، ماحولیاتی اور صحت کے شعبوں سے وابستہ حکام کے حالیہ فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اگر موجودہ دور میں بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو مستقبل میں ان خطرات سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ ان تمام تباہ کن عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں صحت مند زندگی کے سالوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بیماریوں، جسمانی معذوری اور قبل از وقت اموات کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ یہی پوشیدہ اور ظاهری خطرات ہیں۔
تحقیق میں اس امر کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ خطرات فی الحال اٹل یا ناگزیر نہیں ہیں اور ان کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی برادری متحد ہو کر اور وقت پر حکمت عملی طے کرے تو ان تباہیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
محققین کا مشورہ ہے کہ حکومتوں کو اپنے طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے تنوع کو فروغ دے کر اس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی اداروں اور سائنسدانوں نے تمام ممالک کے سربراہان کو متنبہ کیا ہے کہ غفلت کا مظاهرە کرنے سے آنے والے ادوار میں بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مستقبل کی نسلوں کو ایک محفوظ اور صحت مند دنیا فراہم کرنے کے لیے آج ہی عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
محققین نے اپنی اس تفصیلی مطالعے کے دوران اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مختلف ممالک میں پالیسی سازوں کو باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے بغیر دنیا کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
آخر میں ماہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں تو آئندہ آنے والی صدی میں انسانیت کو بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں