جھنگ میں پہلی بار ڈیزرٹ ریلی اور شاندار ثقافتی میلے کے انعقاد کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے جو کہ سولہ سے اٹھارہ اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس تین روزہ سپورٹس اور کلچرل ایونٹ کے دوران صحرائے تھل میں پچانوے کلومیٹر طویل ٹریک بنایا گیا ہے جس پر سنسنی خیز جیپ ریلی، روایتی کھیل اور تفریحی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔
لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت منعقد ہونے والے اس ایونٹ کا بنیادی مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ اس تقریب کا مقصد جھنگ کی بھرپور ثقافت اور تاریخی ورثے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا بھی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ تاریخی ڈیزرٹ ریلی صحرائے تھل کے علاقے رحمت آباد اور تحصیل اٹھارہ ہزاری میں منعقد کی جائے گی۔ اس مقام کا انتخاب علاقے کی خوبصورتی اور روایات کو سامنے لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کو بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مقررہ تفصیلات کے مطابق اس بڑی ریلی میں پاکستان بھر سے تقریباً ایک سو ڈرائیورز اور رائیڈرز کی شرکت متوقع ہے جن میں خواتین جیپ ریسرز بھی شامل ہوں گی۔ خواتین کی اس مقابلے میں شرکت سے موٹر اسپورٹس کے شعبے میں صنفِ نازک کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
پاکستان کے معروف اور نامور ریسر نادر مگسی بھی اس بڑے ایونٹ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے شریک ہوں گے۔ ان کی موجودگی سے اس موٹر اسپورٹس مقابلے کی اہمیت اور جوش و خروش میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
ٹیم سلطان کے بانی اور سربراہ شہزادہ سلطان محمد علی نے بھی اس ریلی میں باقاعدہ حصہ لینے کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے موٹر اسپورٹس کے تمام شوقین افراد کو اس ایونٹ میں بھرپور شرکت کی پرخلوص دعوت دی ہے۔
شہزادہ سلطان محمد علی کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ پاکستان کے پوشیدہ ریسنگ ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ بنے گا۔ اس کے ذریعے جھنگ میں کھیلوں کی ایک نئی اور صحت مند روایت کی بنیاد رکھی جائے گی۔
اس ایونٹ کے مرکزی اسپانسر مکرم وحید شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ثقافتی میلے کے دوران ناظرین کے لیے کئی دلچسپ سرگرمیاں رکھی گئی ہیں۔ ان روایتی کھیلوں میں نیزہ بازی، گھڑ سواری کے دوران تیر اندازی، کبڈی، والی بال اور پیراگلائیڈنگ شامل ہیں۔
میلے کے منتظمین نے عام شہریوں اور آنے والے خاندانوں کے لیے خصوصی تفریحی پروگرام بھی ترتیب دیے ہیں تاکہ ہر طبقے کے لوگ اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے تفریح کے الگ سے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین نے مزید بتایا کہ دور دراز سے آنے والے شرکا اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی فوڈ کورٹس قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی رہائش کے لیے محفوظ کیمپس بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ نے جھنگ کے صحرائے تھل، دریائے چناب اور جہلم کے تاریخی سنگم کو علاقے کی اہم ترین خصوصیات قرار دیا ہے۔ ان مقامات کی سیاحتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اس ریلی کو ایک سنہری موقع سمجھا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران رکن پنجاب اسمبلی کرنل ریٹائرڈ غضنفر عباس قریشی بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ سابق رکن پنجاب اسمبلی فیصل حیات جبوآنہ، امیر عباس سیال اور دیگر معززین نے بھی اس موقع پر شرکت کی۔
ان تمام مقامی شخصیات نے سیاحت کے فروغ، ثقافت کے تحفظ اور صحت مند تفریحی سرگرمیوں کے انعقاد کے اس حکومتی اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔
منتظمین کے تخمینے کے مطابق اس تین روزہ بڑے ایونٹ کے دوران پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک افراد کی آمد متوقع ہے۔ اتنے بڑے مجمع کو سنبھالنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں نے سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔





اپنی رائے دیں