شہرِ لاہور میں دیسی کشتی کے روایتی اور سنسنی خیز مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں پنجاب بھر سے آئے ہوئے نامور پہلوانوں نے شرکت کی۔ یہ مقابلے چائنہ اسکیم کے شہباز شریف اسٹیڈیم میں منعقد ہوئے، جہاں شائقین کی بڑی تعداد نے پہلوانوں کی مہارت کو سراہا۔
پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے صدر چوہدری ارشد ستار کی خصوصی ہدایات پر لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن کے صدر مہر اکرم عرف کالا پہلوان نے ان مقابلوں کا اہتمام کیا۔ اس ایونٹ کا مقصد روایتی کھیل کو فروغ دینا اور نوجوان پہلوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
مقابلوں کا سب سے اہم جوڑ عابد کرین والا اور حسنین پہلوان کے درمیان ہوا، جو انتہائی دلچسپ رہا اور آخر کار برابری پر ختم ہوا۔ اسی طرح رضا پہلوان اور بشار پہلوان کے درمیان ہونے والی کشتی بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی اور برابر رہی۔
ایونٹ میں شامل دیگر مقابلوں میں سخی پہلوان پٹھا کالا پہلوان، مجاہد پہلوان، قاسم پہلوان اور ماما پہلوان نے اپنے مد مقابل پہلوانوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ حسن پہلوان اور حسین پہلوان نے بھی اپنے حریفوں کو چت کر کے شائقین سے داد وصول کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی ڈی پی آئی سیکنڈری سکولز پنجاب قیصر رشید تھے۔ ان کے ہمراہ ملک نذیر گلاب، حاجی نعمت علی بارا، ملک شہباز، ملک امجد، حاجی بلال، محمد عامر رضا اور نوید بٹ سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مہر اکرم عرف کالا پہلوان نے فاتح پہلوانوں میں نقد انعامات تقسیم کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ کشتی کے کھیل کو دوبارہ عروج پر لانے کے لیے ایسے مقابلوں کا تسلسل ضروری ہے تاکہ نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جا سکے۔
مقابلوں کے انعقاد میں قومی ریسلنگ کوچ فرید علی، طاہر بابا پہلوان، جہان خان پہلوان، سونا چاندی اور مہر وقاص پہلوان نے اہم معاونت فراہم کی۔ منتظمین نے کھلاڑیوں کی تکنیک اور طاقت کو بہتر بنانے کے لیے ان مقابلوں کو انتہائی مفید قرار دیا۔
شام کے وقت روشنی کم ہونے کے باعث کچھ کشتیاں مکمل نہ ہو سکیں جنہیں انتظامیہ نے ملتوی کر دیا۔ مہر اکرم عرف کالا پہلوان نے یقین دلایا کہ آئندہ ہونے والے مقابلوں کے لیے اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس کا مکمل انتظام کیا جائے گا۔
لاہور میں دیسی کشتی کے یہ مقابلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید دور میں بھی روایتی کھیلوں کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔ شائقین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس قدیم کھیل کی سرپرستی جاری رکھیں۔
پہلوانوں نے بھی اس موقع پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی روایات کو زندہ رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ایونٹس سے انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ملتا ہے۔
مقابلوں کے اختتام پر شرکاء نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے بڑے ایونٹس کا انعقاد کیا جائے گا۔ لاہور کے پہلوانوں نے اس کھیل کو ایک نئی پہچان دینے کے لیے پرعزم دکھائی دیے۔
اس ایونٹ نے نہ صرف مقامی پہلوانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا بلکہ شہریوں کو بھی تفریح کا ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ لاہور کی تاریخ میں دیسی کشتی ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے اور ایسے مقابلے اس ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ آئندہ مقابلوں میں مزید پہلوانوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مقابلے کا معیار مزید بہتر ہو سکے۔ کشتی کے شوقین افراد نے اس ایونٹ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اسے ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔





اپنی رائے دیں