شہرِ لاہور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل نے رکشہ ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ان محنت کشوں کے لیے روزانہ کے اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ دن بھر کی سخت محنت کے بعد جو آمدنی حاصل ہوتی ہے، اس کا بڑا حصہ پٹرول کے اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے لیے ضروری راشن اور دیگر اخراجات پورے کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
صرف پٹرول ہی نہیں بلکہ رکشے کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انجن آئل کی تبدیلی، ٹائروں کی مرمت اور گاڑی کے دیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ڈرائیوروں کو ایک طرف ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے تو دوسری طرف کرایوں کے تعین پر بھی انہیں کشمکش کا سامنا ہے۔ اگر وہ کرایوں میں اضافہ کرتے ہیں تو سواریاں ناراض ہو کر رکشے میں بیٹھنے سے گریز کرتی ہیں۔
دوسری جانب اگر وہ پرانے کرایوں پر ہی کام جاری رکھیں تو ان کی اپنی جیب سے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اس دو طرفہ دباؤ نے رکشہ ڈرائیوروں کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
متاثرہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کی روزانہ کی کمائی پر پڑتا ہے۔ اب ان کے لیے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں نے ڈرائیوروں کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کا تخمینہ لگانا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ انہیں ہر صبح اٹھ کر یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ آیا آج کا دن ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہوگا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں رکشہ چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔ ایندھن سستا ہونے سے ہی ان کی آمدنی میں بہتری آ سکتی ہے اور وہ باعزت طریقے سے اپنا گھر چلا سکتے ہیں۔
کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ قرض لے کر اپنے رکشوں کی مرمت کرواتے ہیں، لیکن پٹرول کے اخراجات نکالنے کے بعد اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ قرض کی اقساط بھی ادا کر سکیں۔ یہ صورتحال انہیں ذہنی دباؤ اور مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے ڈرائیور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی مشکلات کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر بھی پڑتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سفر کے لیے ان رکشوں پر انحصار کرتے ہیں۔
موجودہ معاشی حالات میں رکشہ ڈرائیوروں کی یہ فریاد حکومتی سطح پر توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہیں لایا گیا تو یہ طبقہ مزید معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے ان کے خاندانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔
رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی محنت کا صلہ چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔
شہر کے مختلف سٹینڈز پر موجود ڈرائیور اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس پیشے کو جاری رکھیں یا کوئی اور متبادل تلاش کریں۔ تاہم، متبادل روزگار کی کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث وہ اسی مشکل پیشے سے وابستہ رہنے پر مجبور ہیں۔



اپنی رائے دیں