مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 5:31 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 5:3112 اکتوبر
پاکستان

شیخوپورہ: غربت سے تنگ ماں کا اپنے بچوں پر فائر، بیٹا جاں بحق

شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر غربت اور مہنگائی سے دل برداشتہ ماں نے اپنے دو بچوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سات سالہ بیٹا موقع پر ہی دم توڑ گیا، ماں نے بھی خودکشی کر لی۔

شیخوپورہ: غربت سے تنگ ماں کا اپنے بچوں پر فائر، بیٹا جاں بحق

شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں غربت اور معاشی تنگی سے تنگ آ کر ایک ماں نے اپنے ہی بچوں پر گولی چلا دی۔ اس دلخراش واقعے میں سات سالہ احسن موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ چھ سالہ طیبہ شدید زخمی ہے۔

مقامی پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق گھنگ روڈ کی بستی گلی نمبر ایک میں رہائش پذیر ایک محنت کش ڈرائیور عمران کا گھر اس وقت مقتل گاہ بن گیا جب ان کی اہلیہ شازیہ نے انتہائی قدم اٹھایا۔ بچوں کی جانب سے پھل خریدنے کی ضد پر ماں نے دلبرداشتہ ہو کر یہ اقدام کیا۔

واقعے کے بعد زخمی بچی طیبہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ شازیہ نے بھی بچوں پر فائرنگ کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ عمران کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور گھر میں اکثر غربت کے باعث تناؤ رہتا تھا۔ شازیہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھی جس کی وجہ سے وہ گھریلو اخراجات پورے نہ ہونے پر پریشان رہتی تھی۔

واقعے کے روز جب بچوں نے ماں سے پھل خریدنے کی فرمائش کی تو شازیہ کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس تلخ حقیقت نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔

پاکستان میں غذائیت کی کمی اور غربت کے مسائل پر ماہرین نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غذائیت کی کمی ریاست کے لیے سیکیورٹی تھریٹ بن چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ غذائیت کی کمی سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد سکول جانے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتی ہے، جس سے انسانی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کا فقدان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا رہا ہے۔ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کا نہ ملنا معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

اس واقعے نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور معاشی عدم مساوات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غریب طبقے کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں اور انہیں تحفظ ملے۔

شیخوپورہ کا یہ سانحہ محض ایک خاندانی المیہ نہیں بلکہ یہ ان تلخ حقائق کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا آج بہت سے خاندان کر رہے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے ہونے والی یہ اموات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔

پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی بچی طیبہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے ریلیف کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی اور ماں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں