مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 6:10 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 6:1012 اکتوبر
پاکستان

لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

صوبائی دارالحکومت میں سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

لاہور میں اتوار کے روز مہنگائی کی ایک نئی لہر نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی معطل ہونے کے باعث عوام ایل پی جی کے حصول کے لیے مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔

اتوار کا دن ہونے کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ناشتے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے گیس کی تلاش میں دکھائی دی۔ گیس کی عدم دستیابی نے خاص طور پر ان گھرانوں کو متاثر کیا ہے جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر سوئی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث قوت خرید ختم ہو چکی ہے، اب گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے ان کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام نظر نہیں آ رہا۔

دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے۔ حسن آباد روڈ پر سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے سڑک پر گندا پانی جمع ہو گیا ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سیوریج کا پانی جمع ہونے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے بلکہ علاقے میں تعفن پھیلنے سے شہریوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ مقامی افراد نے حکام سے فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہر میں گیس کی قلت اور انفراسٹرکچر کے مسائل نے اتوار کے دن شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری نرخوں پر لانے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ شہریوں کو روزمرہ کے امور میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شہر کے مختلف بازاروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے۔ دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سوئی گیس کی بندش کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حسن آباد روڈ پر سیوریج کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

محکمہ واسا اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شہر کے نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے طویل مدتی منصوبے بنائیں۔ صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مجموعی طور پر لاہور کے شہری ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کے فقدان نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام ان مسائل کا نوٹس لے کر فوری ریلیف فراہم کریں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں