مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 6:13 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 6:1312 اکتوبر
اسلام آباد

اسلام آباد: نجی یونیورسٹی طالبہ کی مبینہ خودکشی، ایف آئی اے کی کارروائی

وفاقی دارالحکومت میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی مبینہ خودکشی کے کیس میں ایف آئی اے نے ایک ملزم اور خاتون کو حراست میں لے لیا۔

اسلام آباد: نجی یونیورسٹی طالبہ کی مبینہ خودکشی، ایف آئی اے کی کارروائی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔

ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس میں ملوث ایک اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے ساتھ ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیموں کا ماننا ہے کہ اس خاتون کی گرفتاری سے کیس کی گتھیاں سلجھانے میں اہم مدد ملے گی اور حقائق سامنے آئیں گے۔

تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ اور گردونواح سے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کر لی ہیں۔ ان فوٹیجز میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی طالبہ کو ایک گلی سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو تفتیش کا ایک اہم حصہ ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے طالبہ کے آخری لمحات اور ان کے ساتھ موجود افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فرانزک ماہرین بھی اس فوٹیج کا تکنیکی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی نشاندہی ہو سکے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کی موت ایک بڑا سانحہ ہے اور وہ انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ تمام شواہد کو اکٹھا کر کے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی ٹیمیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی منظم گروہ یا بلیک میلنگ کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔ اس پہلو پر تفتیش سے کیس کی نوعیت مزید واضح ہو سکے گی۔

واقعے کے بعد سے نجی یونیورسٹی کے طلباء اور سول سوسائٹی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کوئی ملوث ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ پولیس اور ایف آئی اے کی جانب سے باقاعدہ طور پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

تفتیشی حکام نے یقین دلایا ہے کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط کیس پیش کیا جا سکے۔ انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

متاثرہ طالبہ کے لواحقین سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں۔ ان کے بیانات کیس کی تفتیش میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں جس سے واقعے کی اصل وجوہات تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں کیونکہ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مزید شواہد سامنے آئیں گے، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

اسلام آباد کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں