نیپال کے مختلف پہاڑی علاقوں میں ایک بار پھر شدید سیلابی صورتحال نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں گورکھا ضلع کے کئی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلابی ریلے نے اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ صورتحال پہاڑی تودے گرنے کے باعث پیدا ہوئی جس سے دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا۔ پانی کا دباؤ بڑھنے سے سیلابی ریلے نے آبادیوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں سلیری بازار مکمل طور پر بہہ گیا ہے اور وہاں موجود تمام کاروباری مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔
گورکھا ضلع کے ہی ایک اور علاقے جگت بازار میں بھی سیلابی پانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلابی ریلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ علاقے میں موجود نجی املاک اور تجارتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
مقامی حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث سڑکوں اور مواصلاتی رابطوں کے متاثر ہونے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔
خوش قسمتی سے، تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
نیپال کا جغرافیائی محل وقوع اسے قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے انتہائی حساس بناتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں سیلابی صورتحال کی شدت اور تعدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پہاڑی تودے گرنے سے دریاؤں کے راستے بند ہونا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس طرح کے واقعات اکثر اچانک پیش آتے ہیں جس سے مقامی آبادی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گورکھا ضلع میں پیش آنے والا یہ واقعہ نیپال میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں اور موسمی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔
متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جلد شروع کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو بحال کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بھی نیپال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی بیرونی امداد کی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی، تاہم مقامی حکام صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔
نیپال میں سیلاب کے اس حالیہ سلسلے نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ پہاڑی خطوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے یہ صورتحال ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر انحصار کریں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کے نظام کو بحال کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
آئندہ چند روز کے دوران موسم کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔





اپنی رائے دیں