بھارت کے شہر امرتسر میں معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ میڈ سندھو کے قتل کے کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔
میڈ سندھو کو 3 اکتوبر 2026 کو امرتسر کے لوہارکا روڈ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقتول کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
امرتسر پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ امرتسر کینٹ تھانے میں درج کیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر چھ ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں مرکزی ملزم، ان کا بھائی، اسلحہ فراہم کرنے والے اور ریکی کرنے والے افراد شامل ہیں۔
پولیس کمشنر ہرمن بیر سنگھ گل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی ملزم پرمیندر سنگھ عرف کاکا واردات کے بعد فرار ہو کر گجرات کے شہر احمد آباد پہنچ گیا تھا۔ ملزم نے وہاں سے پنجاب میں موجود اپنے بھائی امن دیپ سنگھ سے رابطہ کر کے رقم کا مطالبہ کیا تھا۔
تحقیقاتی ٹیم نے تکنیکی شواہد کی مدد سے پہلے ہی امن دیپ سنگھ کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس نے امن دیپ سنگھ کے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے ایک کیو آر کوڈ کے ذریعے پرمیندر سنگھ کو ٹریس کیا۔
پولیس کے مطابق جیسے ہی پرمیندر نے رقم وصول کرنے کے لیے بھیجا گیا کیو آر کوڈ سکین کیا تو اس کی لوکیشن احمد آباد میں ٹریس ہو گئی۔ اس معلومات کی بنیاد پر پنجاب اور گجرات پولیس نے مشترکہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت ویڈیو کال کے ذریعے ان کے جوتوں سے بھی کی گئی، جو واردات کے وقت مبینہ شوٹر کے پاؤں میں نظر آئے تھے۔ پولیس دوسرے شوٹر کی بھی شناخت کر چکی ہے اور اسے جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
میڈ سندھو، جن کا اصل نام مدھوسودن تھا، سوشل میڈیا پر اپنی منفرد ویڈیوز اور میک اپ کی مہارت کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ انسٹاگرام پر دو لاکھ سے زائد فالوورز رکھتے تھے اور انہوں نے پنجابی فلم ’اوئے بھولے اوئے‘ میں بھی اداکاری کی تھی۔
مقتول اپنی جنسی شناخت کے حوالے سے کھل کر بات کرنے کے لیے جانے جاتے تھے اور ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی سے وابستہ تھے۔ انہیں اپنی زندگی میں تعصب اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اظہار وہ مختلف انٹرویوز میں کر چکے تھے۔
سوشل میڈیا پر میڈ سندھو کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ انہیں بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی رہی تھیں۔ قتل سے چند ماہ قبل ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دیتا ہوا دکھائی دیا تھا۔
امرتسر پولیس نے اس کیس کو حل کرنے کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کیا ہے۔ پولیس کا عزم ہے کہ وہ جلد ہی باقی مفرور ملزمان کو بھی قانون کی گرفت میں لے آئے گی۔





اپنی رائے دیں