بھارت میں ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے نے مسافروں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا، جب طیارے میں موجود ایک پاور بینک میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ واقعہ دہلی سے چنئی جانے والی انڈیگو ایئرلائن کی پرواز 6E6115 کے دوران پیش آیا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایئربس اے 321 طیارہ 35000 فٹ کی بلندی پر محو پرواز تھا کہ اچانک اوور ہیڈ کمپارٹمنٹ سے دھواں اٹھنے لگا۔ معلوم ہوا کہ وہاں رکھے گئے ایک پاور بینک میں آگ لگ گئی ہے جس سے جہاز میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
طیارے کے عملے نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر آگ بجھانے والے آلات کا استعمال کیا اور آگ پر قابو پا لیا۔ تاہم، مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پائلٹس نے طیارے کو قریبی حیدرآباد ایئرپورٹ کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کو بحفاظت راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ حکام نے فوری طور پر طیارے کو گراؤنڈ کر دیا تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور کسی بھی قسم کے تکنیکی نقص کو دور کیا جا سکے۔
ایئرلائن انتظامیہ نے مسافروں کو کسی بڑی پریشانی سے بچانے کے لیے متبادل طیارے کا انتظام کیا، جس کے ذریعے انہیں ان کی منزل یعنی چنئی روانہ کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پاور بینکس میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں جو زیادہ گرم ہونے کی صورت میں آگ پکڑ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایوی ایشن پالیسیوں میں پاور بینکس کو ہینڈ بیگیج میں رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دورانِ پرواز پاور بینک کا استعمال یا اسے غلط طریقے سے رکھنے سے اس طرح کے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر کے دوران الیکٹرانک آلات کے حوالے سے حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔
اس واقعے کے بعد ایوی ایشن حکام نے ایک بار پھر مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاور بینک اور دیگر لیتھیم بیٹری والے آلات کو ہینڈ بیگیج میں رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عملہ فوری کارروائی کر سکے۔
واضح رہے کہ 35000 فٹ کی بلندی پر اس طرح کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے، لیکن عملے کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد ایئرپورٹ پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔
حیدرآباد ایئرپورٹ پر طیارے کے اترنے کے بعد تکنیکی ٹیموں نے معائنہ شروع کر دیا ہے۔ ایئرلائن انتظامیہ نے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پاور بینک میں آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی۔
مسافروں نے اس ہنگامی صورتحال کے دوران عملے کے کردار کو سراہا، جنہوں نے گھبرانے کے بجائے فوری طور پر آگ پر قابو پایا۔ ایئرلائن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مسافروں کو ہونے والی زحمت پر معذرت بھی کی گئی ہے۔
اس قسم کے واقعات ایوی ایشن سیکورٹی کے حوالے سے ایک اہم سبق ہیں کہ پرواز کے دوران الیکٹرانک آلات کے ساتھ احتیاط برتنا کتنا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر ایئرلائنز اب پاور بینکس کے حوالے سے مزید سخت قوانین پر غور کر رہی ہیں۔
فی الحال طیارہ حیدرآباد ایئرپورٹ پر موجود ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد ہی اسے دوبارہ پرواز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے چنئی پہنچا دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں