بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر حسن محمود نے ابوظہبی میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کے صفحات میں اپنا نام درج کروا لیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے خلاف جاری واحد ٹیسٹ کے تیسرے روز ہیٹ ٹرک مکمل کر کے دنیائے کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
چھبیس سالہ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر حسن محمود نے افغانستان کی پہلی اننگز کے 83 ویں اوور میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے اوور کی ابتدائی گیندوں پر یکے بعد دیگرے وکٹیں حاصل کر کے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ یہ لمحہ بنگلا دیشی کرکٹ کے لیے انتہائی یادگار ثابت ہوا۔
حسن محمود نے اوور کی پہلی گیند پر عصمت عالم کو بولڈ کیا، جبکہ اگلی ہی گیند پر نئے آنے والے بیٹر قیس احمد کو وکٹ کیپر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا کر اپنی ہیٹ ٹرک کی راہ ہموار کی۔ تیسری وکٹ کے لیے انہیں ڈی آر ایس کا سہارا لینا پڑا۔
اوور کی پانچویں گیند پر ضیاء الرحمٰن کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر امپائر نے شروع میں ناٹ آؤٹ کا فیصلہ دیا تھا۔ تاہم بنگلا دیشی ٹیم کی جانب سے ریویو لینے پر ہاک آئی ٹیکنالوجی نے گیند کو آف اسٹمپ سے ٹکراتے ہوئے دکھایا، جس کے بعد امپائر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔
اس کامیابی کے ساتھ ہی حسن محمود ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے بنگلا دیش کے پہلے فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔ ان سے قبل یہ اعزاز صرف بنگلا دیشی اسپنرز کے پاس تھا، جنہوں نے ماضی میں یہ سنگ میل عبور کیا تھا۔
بنگلا دیشی کرکٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حسن محمود سے قبل آلوک کپالی نے 2003 میں پاکستان کے خلاف پشاور میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔ اس کے علاوہ سوہاغ غازی نے 2013 میں چٹاگانگ کے مقام پر نیوزی لینڈ کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔
حسن محمود کی اس شاندار بولنگ کی بدولت بنگلا دیشی ٹیم افغانستان کو 240 رنز پر ڈھیر کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کارکردگی کے نتیجے میں بنگلا دیش کو پہلی اننگز میں 106 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی، جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
میچ میں حسن محمود نے مجموعی طور پر 55 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی بہترین بولنگ کارکردگی میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی درست لائن اور لینتھ نے افغان بیٹرز کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور وہ مسلسل دباؤ میں رہے۔
ہیٹ ٹرک کے علاوہ حسن محمود نے ایک اور بڑا اعزاز بھی اپنے نام کیا ہے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں گیندوں کے اعتبار سے تیز ترین 50 وکٹیں مکمل کرنے والے بنگلا دیشی بولر بن گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حسن محمود نے محض 2424 گیندوں پر اپنی 50 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کیں۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ شہادت حسین کے پاس تھا، جنہوں نے 2991 گیندوں پر یہ سنگ میل عبور کیا تھا۔
میچوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی حسن محمود بنگلا دیش کے ان چار فاسٹ بولرز میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے سب سے تیزی سے 50 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کی ہیں۔ ان کی یہ کارکردگی آنے والے میچوں کے لیے ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کا باعث بنے گی۔
کرکٹ ماہرین حسن محمود کی اس کارکردگی کو بنگلا دیشی فاسٹ بولنگ کے مستقبل کے لیے نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور دباؤ میں وکٹیں لینے کی صلاحیت انہیں ٹیم کا اہم اثاثہ بناتی ہے۔
اس تاریخی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں حسن محمود کی خوب تعریف کی جا رہی ہے۔ بنگلا دیشی شائقین کرکٹ اپنے اس نوجوان اسٹار کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں