جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پر دلی رنج و غم پہنچا ہے اور اس مشکل گھڑی میں پوری پاکستانی قوم سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے جس کا سنجیدگی سے ادراک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلسل جنگ کی آگ میں دھکیلا جا رہا ہے جس کا تمام اسلامی ممالک کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے تمام مسلم ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے باہمی چھوٹے موٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف امت مسلمہ کے اجتماعی تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔
سیاسی اور مذہبی حلقوں کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
مختلف اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات سے ہمیشہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو خطے میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل چاہتی ہیں۔
جے یو آئی کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن عناصر کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے امت مسلمہ کو یک زبان اور ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔
بے گناہ اور معصوم شہریوں کو کسی بھی تنازعے میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور امن کے مسلمہ اصولوں کے سراسر منافی فعل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس عزم کا اعاده کیا کہ ان کی جماعت اور پاکستانیعوام دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ بھرپور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
عالم اسلام کے عمائدین اور مذہبی رہنماؤں کی طرف سے بھی ایسے واقعات کی مسلسل مذمت کی جارہی ہے اور خطے میں امن کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صدیوں پرانی دینی، تاریخی اور انتہائی برادرانہ تعلقات استوار ہیں جن کی جڑیں دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔
ترقی اور خوشحالی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے خطے میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہے جس کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
پاکستان کے تمام سیاسی و مذہبی رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ حرمین شریفین کے تحفظ پر کبھی بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور پوری امت اس پر متحد ہے۔





اپنی رائے دیں