وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ کا فیصلہ انتہائی مشکل اور سوچ بچار کے بعد کیا گیا۔ ان کے ہمراہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور بھی موجود تھے۔
محسن نقوی نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی انتظامیہ کو ساتھ ملا کر ملک سے بدامنی کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک ادارے یا صوبے کی نہیں بلکہ تمام اکائیوں کو مشترکہ طور پر لڑنی چاہتی تھی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے صوبائی حکام کے ساتھ طویل عرصے تک رابطے رکھے گئے اور مختلف امور پر گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج یا لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی ان کے بیشتر مطالبات پر سنجیدہ کام ہو رہا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی راہیں کھلی ہوئی تھیں تو پھر احتجاج کی کال دینے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دو روز تک تفصیلی مذاکرات ہوئے اور مسودے کو کئی بار حتمی شکل دی گئی۔
محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران حزب اختلاف کی طرف سے پیش کی گئی بیشتر ترامیم کو بلا تامل تسلیم کر لیا گیا تھا۔ تمام نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کے بعد اچانک ایک نیا مسودہ میز پر رکھ دیا گیا جس سے معاملات الجھ گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ستمبر کے وسط میں وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد پارلیمانی سطح پر کشیدگی کو کم کرنا اور ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار کرنا تھا۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو سلجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اعادہ کیا تھا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پہلے سے طے شدہ امور کی منظوری دے رکھی تھی اور رات گئے تک رابطہ بھی بحال رہا۔ ایک خاص پیراگراف پر جواب طلب کیا گیا لیکن دوسری طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مسلسل رابطوں اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صوبے کے بارہ اضلاع میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عام شہری گھروں سے باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خطے میں انتہا پسندی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اور مقامی علما بنے ہیں۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی مشاورت اور وزیراعظم کی ایڈوائزر پر صدر مملکت نے دستخط کیے ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات متعلقہ گورنر کو تفویض کر دیے گئے ہیں۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی آئینی توثیق کے لیے جلد ہی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جہاں تمام تفصیلات ایوان کے سامنے رکھی جائیں گی۔ گورنر کی معاونت کے لیے ایک گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ انتظامی ڈھانچہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی انتظام چلانے والے عناصر اس ناسور کے خاتمے میں سنجیدہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔ وفاقی حکومت نے آئینی حدود میں رہتے ہوئے قومی مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔





اپنی رائے دیں