مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 5:32 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 5:3212 اکتوبر
پاکستان

خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی کا حکمنامہ جاری

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی کا حکمنامہ جاری

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت جاری اعلان کی مدت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کی اجازت دے دی، پاک فوج کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پاک فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔

گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے، پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ آئندہ گزٹ آف پاکستان، پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی سمری پر دستخط کیے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے صدر مملکت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس بھجوا دی گئی تھی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چوہدری یہ سمری لے کر ایوان صدر پہنچے تھے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جاری اجلاس میں وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 دونوں کا نفاذ ہوگا، جس کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی لگائی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کے پی میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کی بگڑتی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دشت گردی کے خلاف جنگ سے کے پی حکومت کی دانستہ لا تعلق کے پیش نظر حالات کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کی تجویز دی۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھते واقعات کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت صوبے میں آپریشن کی خواہاں تھی جب کہ سہیل آفریدی کی حکومت مخالفت کرتی آ رہی تھی۔

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تاہم مارچ کے آغاز سے دو روز قبل اس احتجاج کو ایک ہفتے کے لیے موخر کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم 5 اکتوبر سے قبل پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے جس میں فریقین نے مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھے۔ تاہم کئی ادوار کے بعد بھی فریقین کسی معاہدے پر متفق نہ ہو سکے اور یوں مذاکرات ناکام ہو گئے۔

وزیراعلیٰ کے پی کے مطالبات تھے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تمام قانونی حقوق فراہم اور طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ دونوں کو اپنے وکلا سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے۔ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت سیاسی خواتین کو جلد رہا کیا جائے۔

وفاقی حکومت کا کے پی میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت کے آپریشن سے متعلق امور پر صوبائی حکومت کی معاونت اور غیر مشروط حمایت سے متعلق امور پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں