ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملکی حالات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ کمیشن کے مطابق، ایسے اقدامات سے جمہوری عمل کے کمزور ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
کمیشن نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بامقصد سیاسی بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے تمام راستے اختیار کریں۔
ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی صورت میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب نہیں کیا جانا چاہیے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی بہانے سے شہریوں کے حقوق کی معطلی کو یقینی طور پر روکا جائے۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں سیاسی صورتحال کے پیش نظر مختلف حلقوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئینی اقدامات کے حوالے سے بحث کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزراء نے بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کے تمام راستے آزمانے کے بعد ہی کوئی مشکل آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کا اشارہ صوبائی حکومت کے رویے کی جانب تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری کشیدگی نے صوبے میں انتظامی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ ایچ آر سی پی کا بیان اسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔
کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ جمہوری نظام کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تحمل کا مظاہرہ کریں۔ آئینی حدود میں رہتے ہوئے مسائل کا حل نکالنا ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔
ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی استحکام کے لیے پارلیمانی فورمز کا استعمال کیا جائے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کرنا ہی موجودہ سیاسی بحران کا واحد حل دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے وفاق کے ممکنہ اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو آئینی طور پر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے باعث عوامی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انسانی حقوق کی پاسداری ہر صورت میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔ کسی بھی سیاسی بحران کی آڑ میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کسی طور پر قبول نہیں کی جا سکتی۔
مستقبل میں صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے ممکنہ رابطوں پر ہے۔ سیاسی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں