آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا جب مذکورہ ٹینکر ممنوعہ سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) کے مطابق، یہ جہاز عالمی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے نیوی گیشن سسٹمز بند کر کے سفر کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر مجاز راستے کے استعمال کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز سے اب تک آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ یہ تمام جہاز مبینہ طور پر ان راستوں پر سفر کر رہے تھے جن پر سخت پابندی عائد ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بحری جہاز اپنے شناختی اور نیوی گیشن نظام کو بند کر کے سفر کریں گے، انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں سمندری حدود کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک بحری راستہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی سکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور سکیورٹی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے بعد خطے میں کشیدگی کی فضا دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم، ایرانی حکام کی جانب سے اس تازہ واقعے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ حکام نے صرف حادثے کی نوعیت اور وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے تمام گزرنے والے بحری جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طے شدہ سمندری راستوں کی پابندی کریں اور اپنے نیوی گیشن سسٹمز کو فعال رکھیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔
یہ علاقہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں ہونے والی کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایرانی بحریہ نے اپنی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے۔ غیر مجاز راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
واقعے کے بعد سے سمندری حدود میں گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی بھی حادثے یا خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔ پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس راستے پر بارودی سرنگوں کی موجودگی بحری جہاز رانی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی جہاز رانی کے قوانین کی پاسداری انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سمندری قوانین پر عمل درآمد پر زور دیا جا رہا ہے۔ فی الحال صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے اقدامات جاری ہیں۔





اپنی رائے دیں