مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 رات 4:47 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
رات 4:4712 اکتوبر
دنیا بریکنگ نیوز

جبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک

افریقی ملک سے یمن جانے والی کشتی حادثے کا شکار ہو گئی، ریسکیو آپریشن کے دوران درجنوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

جبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک

افریقی ملک جبوتی کے ساحلی شہر اوباک کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی سمندر میں الٹنے سے 139 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ المناک واقعہ 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا جب کشتی میں سوار افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں یمن کا سفر کر رہے تھے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جن کی مجموعی تعداد تقریباً 350 بتائی جا رہی ہے۔ کشتی میں سوار زیادہ تر افراد کا تعلق ایتھوپیا سے تھا جو روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ ریسکیو ٹیموں نے اب تک 80 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا ہے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 15 بچے شامل ہیں جن میں 9 لڑکیاں اور 6 لڑکے بتائے گئے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 52 مرد اور 42 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تاحال 84 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندری حدود میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ کشتی کے الٹنے کی وجوہات میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کا ہونا اور سمندری حالات کو بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی او ایم کے ترجمان نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اکتوبر تک ایتھوپیا سے 1 لاکھ 78 ہزار تارکین وطن جبوتی پہنچ چکے ہیں۔ یہ راستہ انتہائی خطرناک ہونے کے باوجود روزگار کی امید میں ہزاروں افراد ہر سال اسے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

واضح رہے کہ قرنِ افریقہ کے ممالک بشمول ایتھوپیا، صومالیہ، اریٹریا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اکثر بہتر زندگی کی تلاش میں یمن کے راستے خلیجی ریاستوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں کئی بار ایسے جان لیوا حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 10 ستمبر کے بعد سے یمن میں جاری تنازعہ کے باوجود تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ نہیں تھما۔ صرف اسی عرصے کے دوران 20 ہزار سے زائد افراد نے ایتھوپیا سے جبوتی کا سفر کیا ہے۔

مقامی حکام اور بین الاقوامی امدادی ادارے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر چکے ہیں۔ حادثے کے بعد سے علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

یہ حادثہ تارکین وطن کے لیے سمندری راستوں کی خطرناکی کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ عالمی برادری اور متعلقہ ادارے اس طرح کے انسانی المیوں کو روکنے کے لیے محفوظ نقل مکانی کے راستوں اور پالیسیوں پر زور دیتے رہے ہیں۔

ریسکیو آپریشن میں جبوتی کے ساحلی محافظوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے جدید آلات اور کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد صورتحال واضح ہو سکے۔

ایتھوپیا کے حکام بھی اس افسوسناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ حادثے کے شکار افراد کے لواحقین تک معلومات پہنچانے اور ان کی مدد کے لیے سفارتی سطح پر بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی معاونت ممکن ہو سکے۔

مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ تارکین وطن کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے سمندری راستوں پر نگرانی بڑھانے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں