پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے اتائیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے دوران کمیشن کی ٹیموں نے اب تک 3457 طبی مراکز پر چھاپے مارے ہیں۔
ترجمان پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق غیر قانونی طور پر پریکٹس کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1037 اتائیوں کے اڈے سیل کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام عوام کو معیاری اور مستند طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں کارروائیوں کا دائرہ کار سب سے وسیع رہا جہاں 220 اتائیوں کے مراکز کو بند کیا گیا ہے۔ شہر میں غیر رجسٹرڈ طبی مراکز کے خلاف یہ کارروائی شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
دیگر بڑے شہروں میں بھی ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیمیں متحرک رہیں، جہاں گوجرانوالہ میں 111 اور ملتان میں 107 غیر قانونی طبی مراکز سیل کیے گئے۔ راولپنڈی میں بھی 64 ایسے مراکز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جو بغیر لائسنس کام کر رہے تھے۔
فیصل آباد میں بھی اتائیوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے 63 مراکز کو سیل کیا گیا ہے۔ کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں 55 اور سرگودھا میں 50 غیر قانونی طبی مراکز کو بند کر کے انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی سطح پر جاری ان کارروائیوں کے دوران شیخوپورہ میں 35 اور ساہیوال میں 31 اتائیوں کے اڈے سیل کیے گئے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ سلسلہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی جاری رہے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اتائیوں کے خلاف یہ مہم بلا تفریق جاری رہے گی تاکہ عوام کو عطائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں لٹنے اور غلط علاج سے بچایا جا سکے۔ کسی بھی غیر رجسٹرڈ کلینک کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طبی مرکز پر علاج کروانے سے قبل اس کی رجسٹریشن اور ڈاکٹر کی سند کی تصدیق ضرور کریں۔ غیر قانونی مراکز کی نشاندہی کرنا عوامی ذمہ داری بھی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اتائیوں کی جانب سے غلط ادویات اور غیر معیاری علاج کے باعث مریضوں کو سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی سطح پر اس طرح کے کریک ڈاؤن سے طبی شعبے میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
صوبائی حکومت نے بھی ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کرے۔ غیر قانونی پریکٹس کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی ہو۔
اس آپریشن کے دوران سیل کیے گئے مراکز کے مالکان کو بھی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔ کمیشن کی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں موجود ہیں اور شکایات پر فوری ایکشن لے رہی ہیں۔
عوامی حلقوں نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ دیہی علاقوں میں بھی اتائیوں کے خلاف اسی طرح کی کارروائیاں کی جائیں۔ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں مزید چھاپوں کا امکان ہے جس کے لیے کمیشن نے اپنی نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے۔ پنجاب بھر میں طبی معیار کو عالمی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔


اپنی رائے دیں