خیبر پختونخوا کے تعلیمی حلقوں میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں اور سیاسی صورتحال کے پیش نظر طلبہ اور والدین کے خدشات کو دور کرتے ہوئے اہم اعلان کیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں میٹرک سالانہ امتحان کا دوسرا مرحلہ مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت سمیت تمام متعلقہ اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو۔ متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ امتحانات کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
چیئرمین تعلیمی بورڈ کمیٹی پشاور نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ کل ہونے والے امتحانی پرچے اپنے وقت پر ہی لیے جائیں گے۔ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی زحمت یا پریشانی کے اپنے امتحانی مراکز کا رخ کریں۔
مقررہ شیڈول کے مطابق بارہ اکتوبر بروز پیر کو میٹرک کا فزکس کا پرچہ لیا جائے گا۔ تمام تعلیمی بورڈز کے زیر انتظام امتحانی عملے کو اس حوالے سے ضروری احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے پُرامن اور شفاف انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امتحانی مراکز کے باہر سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب تعلیمی بورڈز کے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صوبے میں مجموعی امن و امان یا حالات کی وجہ سے کوئی تبدیلی ناگزیر ہوئی تو شیڈول میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم فی الحال تمام طے شدہ امتحانات اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔
والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں اور صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے ملنے والی ہدایات پر عمل کریں۔ تعلیمی بورڈز کی آفیشل ویب سائٹس پر بھی اس حوالے سے معلومات اپ ڈیٹ کر دی گئی ہیں۔
صوبے کے مختلف تعلیمی بورڈز کے سربراہان نے امتحانی مراکز کے دورے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ انتظامات کا خود جائزہ لیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی انتظامی خامی کو بروقت دور کرنا ہے۔
تعلیمی ماہرین نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل حالات میں بھی تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے طلبہ کا قبل از وقت ضائع ہونے والا قیمتی وقت بچ جاتا ہے۔
حکومت اور تعلیمی اداروں کی یہ کوشش ہے کہ نوجوان نسل کا تعلیمی سال بلا تعطل مکمل ہو۔ تمام متعلقہ محکمے آپس میں قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے جو تعلیمی عمل کو متاثر کرے۔
امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل اپنے امتحانی مراکز میں پہنچ جائیں۔ رول نمبر سلپس اور دیگر ضروری اشیاء ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
امتحانی عملے کو بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شفافیت کو ہر صورت یقینی بنائیں اور نقل یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سختی سے روکا جائے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
مجموعی طور پر صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کا یہ تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ انتظامیہ تعلیمی نظام کو پٹڑی پر رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں