مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 6:23 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 6:2312 اکتوبر
سائنس و ٹیکنالوجی

سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی عملی نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلیں

محققین نے نئی تجرباتی جوہری گھڑیاں تیار کرلی ہیں جو مستقبل میں وقت کی پیمائش کو مزید درست بنائیں گی۔

سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی عملی نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلیں

سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی عملی نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کرلی ہے جس سے وقت کی پیمائش کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ جدید سائنسی پیش رفت مستقبل میں وقت کی پیمائش کے نظام کو انتہائی درست بنانے کے ساتھ ساتھ طبیعیات کے بنیادی اصولوں کی تحقیق میں بھی اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

اس بین الاقوامی تحقیق میں ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جرمنی کے قومی ادارے برائے پیمائش اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی کے مایہ ناز محققین نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس اہم ترین سائنسی تحقیق کی تفصیلات معروف سائنسی جریدے نیچر میں سات اکتوبر کو شائع کی گئی ہیں جنہیں عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا ہے۔

یورپ اور چین کے ماہرین پر مشتمل اس مشترکہ تحقیقی ٹیم نے دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ یہ عملی طور پر ثابت کر دکھایا ہے کہ جوہری گھڑیوں کو باقاعدہ طور پر وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی طویل تحقیق اور تجربات کا نتیجہ ہے جس سے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔

معروف روایتی ایٹمی گھڑیاں عام طور پر ایٹم کے الیکٹرانز میں ہونے والی توانائی کی تبدیلی کو وقت کی پیمائش کے لیے بنیادی پیمانہ بناتی ہیں۔ اس کے برعکس یہ نئی تیار کردہ جوہری گھڑیاں ایٹم کے مرکزے کے اندر رونما ہونے والی توانائی کی تبدیلی پر مکمل طور پر کام کرتی ہیں۔

سائنس دانوں اور محققین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ نیا اور منفرد طریقہ کار مستقبل میں وقت کی پیمائش کے لیے زیادہ مستحکم، قابل اعتماد اور انتہائی حساس نظام تیار کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ اس سے طبیعیات کے کئی پیچیدہ نظریات کو جانچنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

یہ دونوں تجرباتی گھڑیاں خصوصی طور پر تھوریم-229 نامی آئسوٹوپ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں جسے کیمیا اور فزکس کے اصولوں کے تحت کیلشیم فلورائیڈ کے خاص مادے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس جدید تنصیب میں انتہائی نفیس اور خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر استعمال کی جاتی ہے۔

یہ خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر اس مادے کے مرکز میں ہونے والی توانائی کی تبدیلی کو متحرک کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے جبکہ مرکز اس عمل کے دوران لیزر کی فریکوئنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے بہترین ریفرنس فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ یہ نئے ابتدائی سائنسی نمونے فی الحال دنیا کی بہترین آپٹیکل ایٹمی گھڑیوں کی موجودہ کارکردگی کے معیار تک نہیں پہنچ سکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ابتدائی کامیابی اس ٹیکنالوجی کو مزید نکھارنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والے برسوں میں وقت پیمائش کے آلات میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں جو سائنسی تحقیق کو ایک نئی سمت عطا کریں گی۔ مختلف ممالک کے سائنسی ادارے اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اب بھی باہم مصروفِ عمل ہیں۔

تحقیق میں شامل تمام اداروں کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس شعبے میں مزید کام کی گنجائش موجود ہے اور آنے والے وقتوں میں اس کے عملی اطلاق کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس سے عالمی سطح پر پیمائش کے معیارات کو مزید بلند کرنے میں مدد ملے گی۔

سائنسی دنیا میں اس پیش رفت کو ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایٹم کے مرکزے پر مبنی نظام روایتی الیکٹرانک نظاموں کی نسبت بیرونی مداخلت یا اثرات کے خلاف زیادہ محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس خصوصیت کی وجہ سے مستقبل کی نیوکلیئر گھڑیاں خلاء نوردی اور مواصلاتی نظاموں میں بھی انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔

مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوعیت کے تجربات کے لیے انتہائی اعلی درجے کی لیزر ٹیکنالوجی اور انتہائی خالص مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مشترکہ منصوبے میں شامل تمام اداروں نے اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان تمام تکنیکی مشکلات پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے مزید تجربات کیے جانے کی توقع ہے جن کا مقصد اس کے سگنل کو مزید نکھارنا اور اس کی پائیداری کو بڑھانا ہے۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا مظہر ہیں کہ بین الاقوامی سائنسی تعاون کے ذریعے ناممکن نظر آنے والے اہداف کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں