اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے اور عوامی مطالبات پر طے پانے والے امور کو آگے بڑھانے کے لیے رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کو ٹیلیفون کیا ہے۔
اس اہم ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے لیاقت بلوچ کو گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے سابقہ وعدے کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کرنے کے پختہ خواہشمند ہیں۔ اس اعلیٰ سطح کی ملاقات کے لیے فریقین کی طرف سے تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
متوقع ملاقات سے قبل حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان اجلاسوں کا بنیادی مقصد پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کے حوالے سے ایک واضح اور متفقہ ایجنڈے کو تشکیل دینا ہے۔
مذاکراتی کمیٹیوں کے ان طے شدہ اجلاسوں میں دونوں اطراف کے نمائندے مخصوص نکات پر بات چیت کریں گے تاکہ اس اہم معاملے پر عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکے۔ کمیٹی کے ارکان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کون سے عملی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہی عوام کے لیے حقیقی اور پائیدار ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
لیاقت بلوچ نے یاد دلایا کہ اس سے قبل وزیراعظم کی باضابطہ درخواست پر جماعت اسلامی کی طرف سے اپنے سپر لانگ مارچ میں ایک عارضی وقفہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ مارچ معطل کر دیا گیا ہے تاہم لیوی کے خلاف احتجاجی جلسوں کا سلسلہ نہیں روکا گیا۔
جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر مطالبات کے حق میں ملک بھر میں احتجاجی جلسوں اور محضرناموں پر عوامی دستخطی مہم تاحال پوریگرمی کے ساتھ جاری ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ عوامی رابطہ مہم عوامی حقوق کے حصول تک نہیں رکے گی۔
لیاقت بلوچ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنی جاری پرامن تحریک کو اس وقت تک ہرگز ختم نہیں کرے گی جب تک حکومت عوام کے لیے ایک بڑا اور مؤثر ریلیف پیکیج باقاعدہ طور پر منظور اور نافذ نہیں کر دیتی۔ مطالبات کی منظوری ہی تحریک کے خاتمے کی شرط ہے۔
سیاسی حلقوں میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطوں کے اس نئے دور کو ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں اور مہنگائی میں کچھ کمی آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی متوقع ملاقات میں انہی تجاویز اور نکات کی توثیق کی جائے گی جن پر دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس میں تفصیلی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ ملاقات کی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ دونوں جماعتوں کے رہنما اس بات کے خواہاں ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔
آنے والے دنوں میں مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر وزیراعظم اور جماعت اسلامی کے امیر کی ملاقات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا، جس سے ملکی سیاست میں مزید استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں