مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 رات 4:03 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:56
بریکنگ
خیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضویوزیراعظم شہباز شریف کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی خواہشکراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاریصدر مملکت نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے بیرون ملک دوروں کی منظوری دے دیکراچی: شہید ملت روڈ پر آن لائن رائیڈر سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیاجدید چینی مائیکرو ڈرامے: سماجی تبدیلی اور بدلتی ہوئی لسانیات کا عکاسخوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفربھارتی فلم ‘دوسرا’ کے ٹریلر پر انیل کپور اور روہت شرما کا ردعملبالی ووڈ اداکارہ بپاشا باسو 6 سال بعد اسکرین پر واپسی کے لیے تیارزمبابوے کی سابق فاسٹ بولر اور معروف امپائر سارہ ڈمبانیوانا انتقال کر گئیںپشاور: تمام تعلیمی ادارے 13 اکتوبر کو معمول کے مطابق کھلے رہیں گے
رات 4:0313 اکتوبر
دیگر خبریں

خوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفر

پاکستان سے بیرونِ ملک ہجرت کا رجحان معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ خاندانوں میں دوری اور تنہائی جیسے پیچیدہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔

خوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفر

پاکستان میں بہتر مستقبل اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جانے کا رجحان دہائیوں سے جاری ہے۔ 1970 کی دہائی میں ’دبئی چلو‘ کی لہر نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا، جس پر 1979ء میں ایک مقبول فلم بھی بنائی گئی۔ اس دور میں بڑی تعداد میں افراد نے سمندر پار جا کر اپنے خاندانوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی کوشش کی۔

اس ہجرت کا ایک مثبت پہلو معاشی استحکام تھا، تاہم اس کے ساتھ ہی خاندانی نظام میں فاصلے اور جذباتی دوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ کئی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں برسوں بیرونِ ملک محنت کرنے والے افراد جب واپس لوٹے تو انہیں اپنے ہی گھروں میں اجنبیت کا سامنا کرنا پڑا۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025ء میں ستمبر تک 524,716 پاکستانی شہری روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک رجسٹر ہوئے۔ موجودہ دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور ملازمت کے لیے بیرونِ ملک کا رخ کر رہی ہے، جسے تاریخ کی ایک بڑی ہجرت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس جدید ہجرت کے بھی اپنے سماجی اثرات ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے باہر بھیجتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوری والدین کے لیے تنہائی اور بیماری کی صورت میں ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم نوجوانوں کے لیے بھی وہاں کی زندگی اور اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک مستقل جدوجہد ہے۔

کئی کیسز میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بیرونِ ملک بس جانے والے نوجوانوں کے لیے واپس وطن لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ وہاں کے ماحول اور طرزِ زندگی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں پیچھے رہ جانے والے والدین اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک گہرا سماجی المیہ ہے۔

معاشی خوشحالی کی خواہش میں کی جانے والی یہ ہجرت بلاشبہ ملکی معیشت کے لیے ترسیلاتِ زر کا ذریعہ تو بنتی ہے، لیکن اس کی قیمت خاندانی رشتوں میں آنے والی دراڑیں اور بزرگوں کی تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرتی پہلو ہے جس پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماضی کی ایک مثال لاہور کے رہائشی محمد جاوید کی ہے، جو کویت اور سعودی عرب میں برسوں محنت کرنے کے بعد جب وطن واپس لوٹے تو انہیں اپنے ہی گھر میں جگہ نہ ملی۔ ان کی بیوی اور بچوں نے ان کی واپسی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں اولڈ ہوم میں پناہ لینی پڑی۔

محمد جاوید جیسے افراد، جنہوں نے اپنی پوری زندگی بیرونِ ملک گزار کر گھر والوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں، اکثر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی حیثیت خاندان میں ایک ’کمائی کرنے والی مشین‘ سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔ یہ تلخ حقیقت معاشرتی اقدار میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاس ہے۔

دوسری جانب نوجوان نسل کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ جنید جیسے طلبہ کو والدین خود بہتر مستقبل کے لیے جرمنی جیسے ممالک میں بھیجتے ہیں، جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ریستورانوں اور پٹرول پمپس پر سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ جدوجہد ان کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔

جب یہ نوجوان بیرونِ ملک تعلیم مکمل کر کے وہیں ملازمت شروع کر دیتے ہیں، تو والدین کی تنہائی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اکثر والدین بیماری کی حالت میں اپنے بچوں کو واپس بلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بچے وہاں کے ماحول اور معاشی ذمہ داریوں میں اس قدر جکڑے ہوتے ہیں کہ واپسی ممکن نہیں رہتی۔

جنید کی کہانی میں بھی یہی المیہ دیکھنے میں آیا کہ والد کے انتقال کے وقت وہ بروقت پاکستان نہ پہنچ سکا اور اپنی والدہ کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانے پر مجبور ہوا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی ترقی کی دوڑ میں خاندانی روابط کمزور پڑ رہے ہیں۔

بینکنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے بیرونِ ملک جانے والے درجنوں نوجوانوں کے کیسز پروسس کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہجرت کا یہ رجحان رکنے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات طویل مدتی بنیادوں پر معاشرے پر مرتب ہوں گے۔

آخر میں، یہ سوال اہم ہے کہ کیا معاشی خوشحالی کی قیمت خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور بزرگوں کی تنہائی کی صورت میں ادا کی جانی چاہیے؟ ہجرت سے ہجر تک کا یہ سفر پاکستان کے سماجی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

دیگر خبریں کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں