صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ یہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 1 کے تحت تفویض کردہ خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بلائے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سینٹ کا اجلاس منگل 13 اکتوبر 2026 کو شام 5 بجے منعقد ہوگا۔ اس حوالے سے سینٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا رہا ہے جس میں ایوان بالا کے اراکین کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس بھی منگل 13 اکتوبر 2026 کو ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا یہ اجلاس شام 6:15 بجے شروع ہوگا، جو 16 ویں قومی اسمبلی کا 30 واں اجلاس شمار ہوگا۔
پارلیمانی امور کے ماہرین کے مطابق ان اجلاسوں میں اہم قانون سازی اور ملکی سیاسی صورتحال پر غور متوقع ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں مختلف قومی مسائل اور عوامی اہمیت کے حامل امور کو زیر بحث لایا جائے گا۔
صدر مملکت کی جانب سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں کا انعقاد ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں اہم قانون سازی کا عمل جاری ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی ان اجلاسوں میں شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کے دوران پارلیمانی روایات کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
یاد رہے کہ آئین کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کا اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔ ان اجلاسوں کے ذریعے ملکی قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
قومی اسمبلی کے اس 30 ویں اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ اپنے حلقوں کے مسائل اور ملکی معاشی صورتحال پر بھی بات کر سکیں گے۔ ایوان میں ہونے والی بحث کے دوران حکومتی وزراء مختلف سوالات کے جوابات بھی دیں گے۔
سینٹ کے اجلاس میں بھی ملکی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دیگر اہم قومی امور پر بحث متوقع ہے۔ سینٹ کے چیئرمین اجلاس کی صدارت کریں گے اور ایوان کی کارروائی کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلائیں گے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کے لیے ایجنڈا پہلے ہی تیار کر لیا گیا ہے۔ اجلاسوں کے دوران قانون سازی کے علاوہ اہم قراردادیں بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے جن پر ایوان میں ووٹنگ ہوگی۔
حکومتی ترجمان کے مطابق ان اجلاسوں کا مقصد پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم کرنا اور عوامی مسائل کو حل کرنا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اجلاس میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اجلاسوں کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اراکین اسمبلی اور سینٹرز کو اجلاسوں کے شیڈول سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ بروقت شرکت کو یقینی بنا سکیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ ان اجلاسوں کے دوران ملکی مفاد میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ایوانوں کا متحرک ہونا انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں