ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے سعودی عرب پر ہونے والے غیر قانونی اور غیر انسانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک مشکل کی اس گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
صدر اردگان نے اپنے ایک بیان میں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں عمرہ زائرین کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک افسوسناک واقعہ قرار دیا۔
ترک صدر نے کہا کہ خطے میں جاری تقسیم، انتشار اور خونریزی صرف ان قوتوں کے مفاد میں ہے جو مسلم دنیا کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، لہذا امت مسلمہ کو ایسے حالات میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا غیر قانونی کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔
صدر طیب اردگان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے بتایا کہ اس معاہدے کی پارلیمانی منظوری کا عمل آئندہ چند روز میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ اسے جلد از جلد نافذ العمل کیا جا سکے۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، خاص طور پر سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اردگان کا یہ بیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ دونوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور سٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے بھی ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین مسلسل رابطے جاری رہتے ہیں تاکہ علاقائی مسائل پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے، اور مسلم دنیا کے رہنماؤں نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔
ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے مابین اتحاد ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
صدر اردگان نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف اپنا کردار ادا کرے۔
ترکیہ کی پارلیمنٹ میں مکہ معاہدے کی منظوری کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعاون کے نئے دور کا آغاز متوقع ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی فضا کو تقویت ملے گی۔





اپنی رائے دیں