کراچی کے علاقے شہید ملت روڈ پر گزشتہ شب ڈکیتی کی ایک افسوسناک واردات پیش آئی جس میں ایک آن لائن بائیک رائیڈر کو مسلح ملزمان نے لوٹ لیا۔ موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے رائیڈر کو روک کر اس سے قیمتی موبائل فون اور موٹر سائیکل چھین لی۔
واردات کے بعد متاثرہ نوجوان رائیڈر شدید صدمے کی حالت میں سڑک کنارے بیٹھ کر روتا رہا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جس میں نوجوان کو اپنی بے بسی پر اشکبار دیکھا جا سکتا ہے۔
متاثرہ رائیڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے ساتھ ڈکیتی کی یہ تیسری واردات ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے دو ماہ قبل ہی 25 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون خریدا تھا جو اب ڈاکو لے اڑے ہیں۔
نوجوان کا کہنا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل کی مالیت ایک لاکھ روپے تھی اور اب اس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ دوبارہ سواری خرید سکے۔ اس نے حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔
پولیس حکام نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال متاثرہ شخص کی جانب سے کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ تاہم پولیس نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ آن لائن رائیڈرز، جو اپنی روزی روٹی کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، اکثر ایسے جرائم پیشہ عناصر کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد ملتے ہی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا تاکہ متاثرہ نوجوان کو انصاف مل سکے۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف آپریشنز کے باوجود وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اہم شاہراہوں پر گشت بڑھایا جائے تاکہ محنت کش طبقے کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
اس سے قبل بھی کراچی میں ڈکیتی کی کئی بڑی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں سے کچھ کا سراغ ملازمین کی ملی بھگت سے لگایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔
شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے باعث آن لائن سروسز فراہم کرنے والے رائیڈرز میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ رائیڈرز کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں کام کرنا اب ان کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہو چکا ہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔ شہریوں کا تعاون جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ شہید ملت روڈ جیسے مصروف ترین علاقوں میں ایسی وارداتیں انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
متاثرہ نوجوان کی دہائی نے ایک بار پھر شہر میں امن و امان کی صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔





اپنی رائے دیں