صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم پاکستان کے مشورے پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے بیرونِ ملک دوروں کے لیے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت وہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عدالتی امور اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
شیڈول کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان 14 اکتوبر سے 21 اکتوبر 2026 تک برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے دوسرے مرحلے کے دورے کے لیے 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک دوبارہ بیرونِ ملک قیام کریں گے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت نے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے دورہ آذربائیجان کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ دورہ علاقائی عدالتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان 19 اکتوبر سے 22 اکتوبر 2026 تک جمہوریہ آذربائیجان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں کی کانفرنس (TÜRK-AY) میں شرکت کریں گے۔
اس کانفرنس میں شرکت کے ذریعے پاکستان کی عدالتی نمائندگی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ کانفرنس میں مختلف ممالک کے آئینی ماہرین اور جج صاحبان شرکت کریں گے جو آئینی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان دوروں کی منظوری آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے ان دوروں کے لیے ضروری این او سی جاری کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
یہ دورے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان اپنی عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی عدالتی فورمز پر اپنی موجودگی کو فعال رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ بیرونِ ملک دوروں سے عدالتی نظام میں بہتری کے تجربات کے تبادلے میں مدد ملے گی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے دوروں کا سلسلہ نومبر کے اوائل تک جاری رہے گا، جس کے بعد وہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آئیں گے۔ اس دوران عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے متعلقہ قوانین کے مطابق انتظامات کیے گئے ہیں۔
آذربائیجان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے پاکستان اور ترک دنیا کے ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کانفرنس آئینی عدالتوں کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ایوانِ صدر کے اعلامیے میں ان دوروں کے مقاصد کو واضح کیا گیا ہے تاکہ عوامی سطح پر ان کے بارے میں درست معلومات پہنچ سکیں۔ یہ دورے پاکستان کی سفارتی اور عدالتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے عدالتی سربراہان کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے عالمی برادری میں ملک کا وقار بلند ہوتا ہے۔ اس طرح کے دورے قانونی ماہرین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
تمام متعلقہ حکام کو ان دوروں کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ دورے پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے۔





اپنی رائے دیں