وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد حکومتی سطح پر رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم کا پیغام پہنچایا کہ وہ اپنے سابقہ وعدے کے مطابق امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کے خواہشمند ہیں۔
ملاقات کی اس پیشکش کے پس منظر میں پیٹرولیم لیوی کا معاملہ سرفہرست ہے۔ رانا ثنا اللہ اور لیاقت بلوچ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی جو دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔
لیاقت بلوچ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہی عوام کے لیے حقیقی ریلیف کا باعث بنے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم کی درخواست پر ہی جماعت اسلامی نے اپنے لانگ مارچ میں وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی دستخطی مہم اور جلسوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جب تک عوام کو حکومت کی جانب سے بڑا ریلیف پیکیج نہیں مل جاتا، تحریک جاری رہے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کی متوقع ملاقات سے قبل دونوں جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس متوقع ہیں۔ ان اجلاسوں میں لیوی کے خاتمے کے لیے واضح ایجنڈے اور نکات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ 5 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر جماعت اسلامی سے مزید مہلت طلب کی تھی۔ اس سے قبل بھی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے گزشتہ دنوں وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان کسی بھی خفیہ ملاقات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیاں آئین اور قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں۔
شکیل احمد ترابی کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی ملاقات ہوتی تو اسے خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کے نزدیک تمام معاملات شفاف ہونے چاہئیں اور پارٹی اپنی پالیسیوں کے حوالے سے عوام کو مکمل اعتماد میں رکھتی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کا معاملہ عوامی سطح پر اہمیت کا حامل ہے جس پر حکومت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت پر دباؤ برقرار ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ حکومتی کمیٹی اب اس مطالبے پر اپنی حتمی تجاویز تیار کر رہی ہے۔
آئندہ چند روز میں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تاریخ اور مقام کا تعین متوقع ہے۔ اس ملاقات کے بعد ہی پیٹرولیم لیوی کے مستقبل اور جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں واضح صورتحال سامنے آئے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ملکی معاشی صورتحال اور عوامی مطالبات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا یہ عمل سیاسی استحکام کے لیے بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں