خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر بند کیے گئے تعلیمی ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیاں آج سے بحال ہو چکی ہیں۔
پشاور میں شہریوں کی سہولت کے لیے بی آر ٹی سروس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات کے معمول پر آنے کے بعد ریڈ لائن بی آر ٹی سروس اب اپنے معمول کے مطابق مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرے گی۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں اہم شاہراہوں بشمول خیبر روڈ کو ٹریفک کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بحال ہو چکی ہے اور کسی قسم کی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک روز کے لیے تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا تھا اور بی آر ٹی سروس کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ اب حالات کے اطمینان بخش ہونے پر معمولات زندگی بحال کر دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنے روزمرہ کے امور جاری رکھیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے۔
تعلیمی اداروں کے کھلنے سے طلباء کی بڑی تعداد تعلیمی مراکز پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
بی آر ٹی سروس کی بحالی سے پشاور کے شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ سروس شہر کے ایک بڑے حصے کو سفری سہولت فراہم کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے تمام روٹس پر بسیں اپنے مقررہ اوقات کے مطابق چلنا شروع ہو گئی ہیں۔
خیبر روڈ سمیت شہر کی دیگر اہم سڑکوں پر ٹریفک کا نظام بحال ہونے سے شہریوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہم مقامات پر تعینات رہے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ بلا تعطل جاری رہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق اپنی کلاسیں جاری رکھیں۔ کسی بھی قسم کی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ الرٹ ہے۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے صوبے کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پشاور کے مختلف علاقوں میں معمول کی کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہو چکی ہیں۔ بازاروں میں خریداروں کی آمد و رفت دیکھی جا رہی ہے اور تجارتی مراکز اپنے معمول کے اوقات کے مطابق کھلے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
مجموعی طور پر خیبرپختونخوا میں صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور زندگی کے تمام شعبے اپنے معمول پر واپس آ چکے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور بی آر ٹی سروس کی بحالی سے شہریوں کے روزمرہ کے معمولات میں بڑی آسانی پیدا ہوئی ہے۔





اپنی رائے دیں