امریکہ کے شہر نیویارک میں ادبی اور ثقافتی موضوعات کے حوالے سے ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس فیسٹیول کا مقصد پاکستانی ثقافت، فکر اور ادب کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا اور دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی کو پیش کرنا تھا۔
امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی اور اس کے اغراض و مقاصد کو سراہا۔ اس فیسٹیول کا اہتمام نامور ادارے ایشیا سوسائٹی نیویارک کے زیر اہتمام عمل میں لایا گیا تھا جس نے دنیا بھر کے دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
نیویارک میں متعین پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی بھی اس اہم موقع پر سفیر رضوان سعید شیخ کے ہمراہ موجود تھے۔ دونوں شخصیات نے تقریب کے دوران مختلف نشستوں میں شرکت کی اور بین الاقوامی مہمانوں سے تبادلہ خیال کیا۔
تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے لاہور کے شاندار تاریخی، ثقافتی اور ادبی ورثے کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس شہر کی تاریخی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
سفیر پاکستان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ لاہور پاکستان کی ثقافتی، ادبی اور فکری شناخت کا اولین اور اہم ترین مرکز ہے۔ اس شہر کی تہذیبی عظمت اور ادبی روایات پوری دنیا میں اپنی مثال آپ رکھتی ہیں۔
انہوں نے قراردادِ لاہور کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے سیاسی ادب کا ایک لازوال شاہکار قرار دیا۔ سفیر کا کہنا تھا کہ اسی فکری اساس نے آگے چل کر حقیقت کا روپ دھار کر پاکستان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
لاہور کی علمی اور تخلیقی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اس شہر نے ملک کے ادب، فلم اور فنونِ لطیفہ کے فروغ میں ہمیشہ نمایاں ترین کردار ادا کیا۔ قومی تاریخ کے ہر دور میں یہ خطہ تخلیقی صلاحیتوں کا سرچشمہ رہا ہے۔
پاکستانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی روایات کا تسلسل دراصل پاکستان کی مجموعی قومی شناخت کا ایک لازمی اور اہم ترین جزو ہے۔ ان اقدار کو محفوظ رکھنا اور اگلی نسلوں تک پہنچانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے بڑے شہروں کے درمیان تقابل کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ نیویارک کو امریکہ میں جو امتیازی مقام حاصل ہے، پاکستان کی سرزمین پر لاہور بھی بالکل ویسی ہی فکری اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں شہر اپنے اپنے خطوں کی پہچان ہیں۔
لاہور لٹریری فیسٹیول جیسی تقریبات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے انہیں ادب اور بین الاقوامی ثقافتی روابط کے فروغ کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔ ایسے پلیٹ فارمز سے ممالک کے درمیان فکری اشتراک کو تقویت ملتی ہے۔
اس فیسٹیول میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں، نامور دانشوروں اور فنکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان تخلیقی شخصیات نے لاہور کے تاریخی پس منظر اور اس کی ادبی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
تقریب کے دوران شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کے ادبی فیسٹیول عالمی سطح پر تہذیبی تبادلے کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ادب کو ترقی ملتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج بھی ابھرتا ہے۔
منتظمین کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا جن کی محنت سے یہ تقریب کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ سفیر پاکستان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رہے گا۔





اپنی رائے دیں