جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حکومتی اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا ہے۔
ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے سیاسی مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کے برعکس وعدہ خلافی کی ہے اور ثالثی کا کردار سونپنے کے باوجود یکطرفہ فیصلے کیے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد واپسی پر اپوزیشن رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی تھی اور موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
ان کے مطابق، اس کے اگلے روز وفاقی وزرا بھی ان کی رہائش گاہ پر آئے اور انہیں یہی ذمہ داری سونپتے ہوئے سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے میں مدد کی اپیل کی، جس کے بعد انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔
جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ حکومت کا مؤقف تھا کہ پہلے تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ختم کیا جانا چاہیے، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔
پی ٹی آئی کا یہ بھی اصرار تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے اسپتال منتقلی کے عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد کیا جائے تاکہ فضا بہتر ہو سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر تجویز دی کہ دونوں فریق انہیں ثالثی اور حتمی فیصلے کا اختیار دیں، اور اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کال کے ذریعے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی گئی اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
سہیل آفریدی نے اس یقین دہانی کا اظہار کیا تھا کہ اگر حکومت ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لے تو تحریک انصاف فوری طور پر اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔
مذکورہ پیشرفت کے بعد وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس گئے اور وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور لانگ مارچ ختم کرنے پر رضا مند ہو گئی ہے۔
ان کا ارادہ تھا کہ وہ پشاور جا کر صوبائی قیادت سے حتمی بات چیت کریں گے اور دونوں فریقوں کے دو دو رہنماؤں کو بٹھا کر باضابطہ مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔
اسی دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ کے اجلاس کے دوران انہیں فون پر مطلع کیا کہ حکومت صوبے میں مبینہ دہشت گردی کے تناظر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب انہیں باقاعدہ ثالثی کا کردار دیا گیا تھا اور معاملات مثبت سمت میں جا رہے تھے تو پھر کابینہ نے فوری طور پر خود فیصلہ کیوں کیا۔
انہوں نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات اس صوبے سے زیادہ ابتر ہیں، لیکن وہاں گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے صرف یہیں توجہ دی جا रही ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت ہر آئینی اور جمہوری فورم پر اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائے گی اور آئین کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
سیکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات اور حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی ابہام یا سوالات موجود ہیں، تو اس کا حل غیر آئینی یا مسلط کردہ طریقوں سے نہیں نکالا جانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ احتجاج کے امکانات بھی موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر الگ احتجاج کا لائحہ عمل بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب وزیراعظم شہباز شریف سے لیا جانا چاہیے کہ آیا وہ فیصلوں کے معاملے میں مکمل بااختیار تھے یا نہیں۔





اپنی رائے دیں