لاہور میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ریبیز کے مرض میں مبتلا ہو کر مزید دو افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے اور آئے روز ایسے افسوسناک واقعات سامنے آرہے ہیں۔
نئے پیش آنے والے ان افسوسناک واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 60 سالہ نسرین بی بی اور 90 سالہ غوث محمد شامل ہیں جو ریبیز کا شکار ہو گئے تھے۔
طبی ماہرین کے مطابق دونوں مریضوں میں ریبیز کی علامات کی مکمل تصدیق ہو چکی تھی اور انہیں ہسپتال میں طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
پہلے واقعے میں 60 سالہ نسرین بی بی کو دو ماہ قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد ان کی صحت بتدریج خراب ہوتی چلی گئی۔
کتے کے کاٹنے کے اس واقعے کے بعد لواحقین نے انہیں فوری طور پر علاج کی غرض سے میو ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا علاج شروع کیا۔
میو ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں نسرین بی بی کا علاج مسلسل جاری رہا اور ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
ریبیز کا مرض ان کے جسم میں انتہائی خطرناک صورت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث تمام تر طبی کوششوں کے باوجود وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
دوسرے واقعے میں 90 سالہ غوث محمد بھی آوارہ کتے کے کاٹنے کا نشانہ بنے اور ریبیز کی تشخیص کے بعد انہیں بھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
غوث محمد کو میو ہسپتال میں چند روز تک زیرِ علاج رکھا گیا جہاں ڈاکٹر ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے اور ضروری طبی امداد دے رہے تھے۔
کچھ روز تک ہسپتال میں علاج کے بعد غوث محمد کے لواحقین اپنی مرضی سے انہیں گھر واپس لے گئے تھے جہاں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔
گھر منتقلی کے بعد غوث محمد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور دم توڑ گئے، جس کی تصدیق ہسپتال ذرائع اور ڈاکٹروں نے بھی کی ہے۔
ماہرینِ صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ریبیز کے تصدیق شدہ مریضوں کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس مرحلے پر خصوصی نگہداشت ضروری ہوتی ہے۔
شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات اور ان کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے آوارہ کتوں کے خاتمے یا ان کی ویکسینیشن کے لیے کوئی موثر اور جامع اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔
ماہرینِ صحت نے زور دیا ہے کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے زخم کو معمولی ہرگز نہ سمجھا جائے اور فوری طور پر قریبی ہسپتال یا ویکسینیشن سینٹر سے رجوع کیا جائے۔
بروقت ریبیز مخالف ویکسینیشن کا حصول ہی اس جان لیوا اور خطرناک مرض سے بچاؤ کا واحد، موثر اور یقینی ذریعہ ہے جس میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
شہریوں نے حکومت پنجاب اور بلدیاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لاہور کے تمام زونز میں آوارہ کتوں کے خلاف فوری طور پر باقاعدہ مہم شروع کی جائے۔
گلی محلوں اور شاہراہوں پر دندناتے پھرنے والے آوارہ جانوروں کی تلفی کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے تاکہ معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
میو ہسپتال سمیت تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی دستیابی ہر وقت یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد مل سکے۔





اپنی رائے دیں