پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی اور سیکیورٹی امور پر غور کیا۔
اجلاس کے آغاز میں امن و امان کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے تمام شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہی ملک میں امن کی بحالی کی کوششیں بارآور ہو رہی ہیں اور پوری قوم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنے اور خطے میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے گا۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں مدد مل رہی ہے اور اسے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔ صوبے کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کی منظوری دی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ترین آلات، اسلحہ اور دیگر ضروری وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس فورس کو درکار لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کے تحت پولیس کو بکتر بند گاڑیاں، نقل و حرکت کے لیے ضروری گاڑیاں اور مطلوبہ نفری فراہم کی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد فورسز کی تحرك کو تیز کرنا اور آپریشنل صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ اور صوبے میں مستقل امن کا قیام ریاست کے تمام اداروں کی مشترکہ اور اولین ترجیح ہے۔ تمام ادارے اس قومی مقصد کے حصول کے لیے ایک ہی پیج پر ہیں اور بھرپور انداز میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سیکیورٹی امور کے ساتھ ساتھ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں اور معیار زندگی کی بہتری سے متعلق امور پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عوام کی فلاح و بہبود کے بغیر پائیدار امن کا حصول نامکمل ہے۔
اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ صوبے کے پسماندہ اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت ان علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج اور فنڈز بروئے کار لائے گی تاکہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور عام شہریوں کو بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صوبے کے اندر امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر لائحہ عمل پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ پشاور میں ہونے والے اس اہم مشاورتی اجلاس کے دوران سیکیورٹی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی متعدد تجاویز پر اتفاق رائے کیا گیا۔
صوبائی اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کی بحالی تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
امن و امان کی بہتری کے لیے اپیکس کمیٹی کے اس فورم پر تمام عسکری اور سول قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کا سفر امن کے ساتھ مشروط ہے جسے ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔





اپنی رائے دیں